Thoracic/Chest Surgeon Dr Muhammad Rashid

Thoracic/Chest Surgeon Dr Muhammad Rashid FACS, FCPS, MBBS
Thoracic Surgeon

27/01/2026
18/01/2026
30/03/2024

کیا آپ نے کبھی شدید دکھ میں سورۃ الضحی کو سنا یا پڑھا ہے؟

آپ اس کو سن کر تو دیکھیں،
پڑھ کر تو دیکھیں،
آپ کے دل کی تنگی تحلیل ہوگی.

اس سورۃ کو anxiety ،depression کی دوا بھی کہا جاتا ہے.

اللّٰہ تعالیٰ سورۃ کے آغاز میں دو قسمیں کھاتے ہیں.

وَالضُّحٰى (1)
دن کی روشنی کی قسم ہے۔

وَاللَّيْلِ اِذَا سَجٰى (2)
اور رات کی جب وہ چھا جائے.

اس سے پتہ چلتا ہے دن کی روشنی اور رات کی تاریکی دونوں کتنی Value رکھتی ہیں.

زندگی بھی تو ایسے حالات سے گزارتی ہے.
کبھی روشن، کبھی تاریک.

تو پتہ چلا دونوں ہی بُرے نہیں ہوتے ہیں.
دونوں کا آنا لازم ہوتا ہے اور دونوں اپنی خوبصورتی کے ساتھ آتے ہیں.

جب روشنی ہوتی ہے تو تاریکی چھانا لازمی امر ہے اور جب تاریکی ہے تو روشنی آنا بھی لازمی امر ہے.

بات یہ ہے آپ کو یقین ہونا چاہیئے.
کیا یقین ہونا چاہیئے؟... کہ کچھ بھی ہو.

مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلٰى (3)
آپ کے رب نے نہ آپ کو چھوڑا ہے اور نہ بیزار (ناراض) ہوا ہے.

ہمارا رب نہ ہمیں چھوڑے گا نہ بیزار (ناراض) ہوگا.

ساری دنیا چھوڑ سکتی ہے رب نہیں چھوڑے گا

جب لوگ آپ کو چھوڑ جائیں تو پریشان مت ہوں، آپ کا رب نہیں چھوڑے گا.

ہر محبت بیزار (ناراض) ہوسکتی ہے، پر خالق کی محبت مخلوق سے ختم نہیں ہوتی 🤍

کتنی پیاری تسلی ہے ناں ... اللّٰہ ہمیشہ ساتھ ہیں.

جب ہم دنیا میں خسارے میں جارہے ہوتے ہیں، ہر تعلق آہستہ آہستہ ختم ہو رہا ہوتا ہے، ہر چیز دور جا رہی ہوتی ہے، دنیا منہ موڑے کھڑی ہوتی ہے تو یاد رکھیں

وَلَلْاٰخِرَةُ خَيْـرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰى (4)
اور البتہ آخرت آپ کیلئے دنیا سے بہتر ہے.

اصل چیز تو آخرت ہے.
دنیا میں نہ ہو کامیابی، لیکن آخرت پر کمپرومائز نہیں ہوسکتا ہے.

آپ کیوں امید کرتے ہیں لوگ راضی کریں؟
آپ کیوں ایسے اعمال نہیں کرتے جن سے اللّٰہ تعالیٰ راضی ہو، آپ اللّٰہ کیلئے کوشش کریں اللّٰہ پاک تسلی دیتے ہیں.

وَلَسَوْفَ يُعْطِيْكَ رَبُّكَ فَتَـرْضٰى (5)
اور آپ کا رب آپ کو (اتنا) دے گا کہ آپ خوش ہو جائیں گے.

کیا ہوا جو ساری محنت ضائع ہوگئی، کیا ہوا سب نے چھوڑ دیا؟ کیا ہوا سب کے آگے برے بن گے؟ کیا ہوا مسلسل ناکامی ہے؟ کیا ہوا مسلسل تنگی ہے؟ کیا ہوا کوئی راہ نظر نہیں آتی.

یاد رکھیں! اللّٰہ آپ کے ساتھ ہیں وہ آپ کو بھولے گا نہیں.
تو پھر کیا غم؟ پھر کیا پریشانی؟

Iftar in Khana Kaaba | Iftar in Makkah | Ramadhan 2024
29/03/2024

Iftar in Khana Kaaba | Iftar in Makkah | Ramadhan 2024

28/03/2024

*ایک سوداگر نے بازار میں گھومتے ہوئے ایک عمدہ نسل کا اونٹ دیکھا سوداگر اور اونٹ بیچنے والے کے درمیان کافی دیر تک گفت و شنید ہوئی* اور آخرکار سوداگر اونٹ خرید کر گھر لے آیا۔

گھر پہنچ کر سوداگر نے اپنے نوکر کو اونٹ کی زین اتارنے کے لئے بلایا نوکر کو زین کے نیچے ایک مخملی تھیلا ملا جسے کھولنے پر قیمتی ہیروں اور جواہرات سے بھرا ہوا پایا۔

نوکر چلا کر بولا
"آقا آپ نے اونٹ خریدا ہے، لیکن دیکھیں مفت میں کیا آیا؟"سوداگر بھی حیران ہوا، اس نے اپنے نوکر کے ہاتھ میں ہیرے دیکھے جو چمک رہے تھے اور سورج کی روشنی میں اور بھی زیادہ جھلملا رہے تھے۔

سوداگر نے کہا... "میں نے اونٹ خریدے ہیں، ہیرے نہیں، مجھے انہیں فوراً واپس کر دینا چاہئے۔"
نوکر دل میں سوچ رہا تھا کہ میرا آقا کتنا بیوقوف ہے...

بولا مالک کسی کو کچھ پتا نہیں چلے گا ہیرے رکھ لیں لیکن تاجر نے ایک نہ سنی اور وہ فوراً بازار پہنچا اور اونٹ والے کو تلاش کر اس کو مخمل کا تھیلا واپس کر دیا۔

اونٹ بیچنے والا بہت خوش ہوا، کہنے لگا میں بھول گیا تھا کہ میں نے اپنے قیمتی پتھروں کو زین کے نیچے چھپا رکھا ہے۔

اب آپ کسی ایک ہیرے کو بطور انعام منتخب کر سکتے ہیں سوداگر نے کہا کہ میں نے اونٹ کی صحیح قیمت ادا کر دی ہے اس لئے مجھے کسی شکریہ اور انعام کی ضرورت نہیں۔

سوداگر نے جتنا انکار کیا، اونٹ بیچنے والے نے اتنا ہی اصرار کیا۔

آخرکار تاجر مسکرایا اور کہا کہ حقیقت میں جب میں نے تھیلی واپس لانے کا فیصلہ کیا تو میں نے پہلے ہی دو قیمتی ہیرے اپنے پاس رکھ لئے تھے۔
اس اعتراف کے بعد اونٹ بیچنے والے کو غصہ آگیا، اس نے فوراً ہیرے اور جواہرات گننے کے لئے تھیلا خالی کردیا۔

لیکن اس نے بڑی الجھن میں کہا، "میرے سارے ہیرے یہاں ہیں، تو سب سے قیمتی دو کون سے تھے جو تم نے رکھ لئے؟"

*سوداگر نے کہا... "میری ایمانداری اور میری خُوداری"*☘️☘️

27/03/2024

‏وزیر کی جان پہ بنی ہوئی تھی، فقیر بات ہی نئیں سُن رہا تھا ، اۤخر طویل مِنت سماجت کے بعد فقیر نے سر اٹھایا ،
ہاں بول کیا کہنا ہے ؟
وزیر نے ہاتھ جوڑے اور بتانا شروع کیا
ایک مہینہ پہلے ہمارے بادشاہ سلامت نے اچانک دربار میں ایک سوال اچھالا کہ کامیاب کردار کے لئے تربیت زیادہ کارآمد ہے یا ماحول ؟ میرے ایک ہم منصب وزیر نے جھٹ کہا کہ عالی جاہ ! تربیت
جبکہ میں نے اُجلت میں کہا جناب ! ماحول ، ماحول تربیت پر فوقیت رکھتا ہے
بادشاہ سلامت نے ہماری طرف رعونت سے دیکھا اور فرمایا تم دونوں کو اپنا اپنا جواب عملی طور پر ثابت کرنا ہوگا جو ثابت نہ کر سکا اس کا سر قلم کر دیا جائے گا اور اس کے لئے ہمیں ایک ماہ کی مہلت دے دی ،
ہم دونوں اپنے جواب کی عملی تعبیر تلاشنے میں لگ گئے ، میں سوچ سوچ کے پاگل ہونے کے قریب تھا مگر کچھ سمجھ میں نئیں آرہا تھا ، کہ 24 دن بعد اچانک میرے ہم منصب وزیر نے میری موت کے پروانے پر دستخط کرتے ہوئے دربار میں اپنے جواب کو عملی طور پر ثابت کرنے کی اجازت چاہی ، اجازت ملنے پر اس نے دربار میں کھڑے ہو کر تالی بجائی تالی بجتے ہی ایک ایسا منظر سامنے آیا کہ بادشاہ سمیت تمام اہلِ دربار کی سانسیں سینہ میں اٹک گئیں، دربار کے ایک دروازے سے 10 بِلیاں منہ میں پلیٹیں لئے جن میں جلتی ہوئی موم بتیاں تھیں ایک قطار میں خراماں خراماں چلتی دربار کے دوسرے دروازے سے نکل گئیں، نہ پلیٹیں گریں اور نہ موم بتیاں بچھیں، دربار تعریف و توصیف کے نعروں سے گونج اٹھا ، میرے ہم منصب نے بادشاہ کی طرف دیکھا اور بولا ، حضور ! یہ سب تربیت ہی ہے کہ جس نے جانور تک کو اس درجہ نظم و ضبط کا عادی بنادیا ، بادشاہ نے میری جانب دیکھا
مجھے اپنی موت سامنے نظر آرہی تھی میں دربار سے نکل آیا تبھی ایک شخص نے آپ کا نام لیا کہ میرے مسئلے کا حل آپ کے پاس ہی ہوسکتا ہے میں 2 دن کی مسافت کے بعد یہاں پہنچا ہوں، دی گئی مدت میں سے 4 دن باقی ہیں اب میرا فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے،
فقیر نے سر جھکایا اور آہستہ سے بولا واپس جائو اور بادشاہ سے کہو کہ 30 ویں دن تم بھرے دربار میں ماحول کی افادیت ثابت کرو گے ،
مگر میں تو یہ کبھی نہ کر سکوں گا ۔ وزیر نے لا چارگی سے کہا
اۤخری دن مَیں خود دربار میں آئوں گا۔ فقیر نے سر جھکائے ہوئے کہا
وزیر مایوسی اور پریشانی کی حالت میں واپس دربار چلا آیا
مقررہ مدت کا اۤخری دن تھا دربار کھچا کھچ بھرا ہوا تھا وزیر کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا سب کی نظریں بار بار دروازے کی طرف اٹھتی تھیں کہ اچانک ایک مفلوک الحال سا شخص اپنا مختصر سامان کا تھیلا اٹھائے دربار میں داخل ہوا ، بادشاہ کی طرف دیکھا اور بولا ، وقت کم ہے میں نے واپس جانا ہے اس وزیر سے کہو تربیت کی افادیت کا ثبوت دوبارہ پیش کرے، تھوڑی دیر بعد ہی دوسرے وزیر نے تالی بجائی اور دوبارہ وہی منظر پلٹا ، دربار کے دروازہ سے 10 بلیاں اسی کیفیت میں چلتی ہوئی سامنے والے دروازے کی طرف بڑھنے لگیں ، سارا مجمع سانس روکے یہ منظر دیکھ رہا تھا وزیر نے امید بھری نگاہوں سے فقیر کی طرف دیکھا ، جب بلیاں عین دربار کے درمیان پہنچیں تو فقیر آگے بڑھا اور ان کے درمیان جا کے اپنا تھیلا اُلٹ دیا ، تھیلے میں سے موٹے تازے چوہے نکلے اور دربار میں ادھر اُدھر بھاگنے لگے، بلیوں کی نظر جیسے ہی چوہوں پر پڑی انہوں نے منہ کھول دیئے پلیٹیں اور موم بتیاں دربار میں بکھر گئیں، ہر طرف بھگدڑ مچ گئی بلیاں چوہوں کے پیچھے لوگوں کی جھولیوں میں گھسنے لگیں، لوگ کرسیوں پر اچھلنے لگے دربار کا سارا نظام درہم برہم ہوگیا،
فقیر نے بادشاہ کی طرف دیکھا بولا آپ کسی جنس کی جیسی بھی اچھی تربیت کر لیں اگر اس کے ساتھ اسے اچھا ماحول فراہم نہیں کریں گے تو تربیت کہیں نہ کہیں اپنا اثر کھو دے گی ۔ کامیاب کردار کے لئے تربیت کے ساتھ ساتھ بہتر ماحول بے حد ضروری ہے ، اس سے پہلے کہ بادشاہ اسے روکتا فقیر دربار کے دروازے سے نکل گیا تھا۔
ہمارے ہاں تربیت کی ساری ذمے داری استاد پر ڈال دی جاتی ہے گھروں کا کیا ماحول ہے اس طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی.۔۔۔

26/03/2024

*اداس نہ ہو کیونکہ*

ایک دن مولانا رومی رحمتہ اللہ علیہ اپنے گھر تشریف لے گئے اور دیکھا کہ انکا بیٹا اُداس بیٹھا ہے تو انہوں نے دریافت کیا کہ بیٹا اُداس کیوں ہو تو بیٹے نے جواب دیا کہ کچھ نہیں۔

اس پر مولانا رومی رحمتہ اللہ علیہ باہر گئے اور ایک بھیڑیے کی کھال اوڑھ کر آئے اور ڈرانے کے لئے غرانے لگ گئے۔ اس پر ان کا بیٹا ہنسا تو انہوں نے فرمایا:

بیٹا بھیڑیا ایک جنگلی جانور ہے لیکن جب تم نے دیکھا کہ اس کے پیچھے تمہارا باپ تھا تو تم ڈرنے کی بجائے ہنسنے اور مسکرانے لگے، اسی طرح یہ جان لو تمام آزمائشوں اور سختیوں کے پیچھے تمہارا رب ہے۔

جو تمہیں ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے، وہ تمہیں کسی مشکل سے گزارنا چاہتا ہے تو اس کی حکمت کو تم نہیں سمجھ سکتے لیکن وہ بہتر جانتا ہے،

وہ تمہیں کچھ سکھانا چاہتا ہے، مضبوط بنانا چاہتا ہے آنے والے وقت کے لئے, اس سے زیادہ سخت آزمائشوں کے لئے, اور جان لو وہ اسی کو آزماتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے۔

25/03/2024

ا‎یک دانا آدمی سے اس کے کچھ احباب نے پوچھا کہ؛
"زندگی میں کامیابی کیسے حاصل ہوتی ہے؟"۔

اس دانا آدمی نے کہا اس سوال کے جواب کے لئے آپ سب رات کا کھانا میرے ساتھ میرے گھر پر تناول فرمائیں، آپ سب کی دعوت بھی رہے گی، گپ شپ بھی اور سوال کا جواب بھی مل جل کر ڈھونڈ لیں گے۔

رات کے کھانے پر سب احباب دانا آدمی کے گھر کھانے کی دعوت پر پہنچ گے۔ گپ شپ کے بعد جب کھانے کے لئے بیٹھے تھے تو دیکھا کہ ایک ہی برتن میں کھانا رکھا ہے اور سب مہمانوں کو اس برتن کے گرد ایک ایک گز لمبے چمچ دے کر بٹھا دیا گیا اور کھانا شروع کرنے کی دعوت دی گئی۔ لیکن کوئی بھی شخص ایک گز لمبے چمچ سے کھانا کھانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

تب دانا آدمی نے اپنے گز بھر لمبے چمچ میں برتن سے کھانا بھرا اور اپنے سامنے بیٹھے مہمان کو کھلا دیا۔ اب ہر شخص کو یک دم یہ طریقہ سمجھ آ گیا اور ہر کوئی اپنے گز بھر لمبے چمچ کی مدد سے اپنے سامنے بیٹھے مہمان کو کھانا کھلانے لگا، سب اس طریقے سے بہت خوش ہوئے اور سب نے پیٹ بھر کر کھانا بھی کھایا اور انجوائے بھی کیا۔

تب دانا آدمی نے کہا؛

"زندگی میں کامیابی اسی کے قدم چومتی ہے جو زندگی کے دسترخوان پر دوسروں کی مدد کرتا ہے، جیسے گز بھر لمبے چمچوں کی مدد سے ہم نے ایک دوسرے کو کھانا کھلایا اور انجوائے بھی کیا تو اسی طرح زندگی میں ہم سب کی خوشیاں اور کامیابیاں ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔ دوسروں کو ان کی خوشیاں اور کامیابیاں دیتے جائیں آپ کی خوشیاں اور کامیابیاں آپ کو ملتی جائیں گی۔"

ایک قدیم افریقن کہانی سے ماخوذ

22/03/2024

عرب مملکت نے مسجد نبوی کی زیارت کے لیے 3D ورچوئل پروگرام بنایا ہے۔

اپنی انگلی سے سوائپ کریں اور آپ اپنے گھر سے مسجد نبوی میں کہیں بھی جا سکتے ہیں۔

اگر آپ اسے کھولتے ہیں، تو آپ وہاں موجود ہر چیز کو دیکھنے کے لیے ہر ٹیب کو تھپتھپا سکتے ہیں۔ یہ الفاظ سے باہر ہے۔
حیرت انگیز طور پر خوبصورت۔
https://vr.qurancomplex.gov.sa/msq/

21/03/2024

*‏فقیر نے میرا ہاتھ پکڑا اور میری مُٹھی عجوہ کھجوروں سے بھر دی*

فرمایا کھاؤ اور ساتھ بِٹھا کے فرمانے لگے‏ بتاؤ تو "حیات" کِس کو کہتے ہیں..؟

میں نے کہا زندگی کو..؟
‏ تو میرے سر پر ہلکی سی چپیٹ لگا کر فرمانے لگے نہیں نکمے "حیات" تو وہ ہوتی ہے جِسے کبھی موت نہیں آتی..

دیکھو نہ اللّٰه تعالی کا ایک ایک لفظ ہیرے یاقوت و مرجان سے زیادہ پیارا اور قیمتی اور نصیحتوں سے بھرپور ہے...
‏اللّٰه نے یہ نہیں کہا کہ اِسلام مکمل ضابطہ زندگی ہے بلکہ یوں کہا کہ مکمل ضابطہ "حیات" ہے اور حیاتی تو مرنے کے بعد شروع ہو گی جِسے کبھی موت نہیں آئے گی...
‏‏
پھر گلاس میں میرے لیئے زم زم ڈالتے ہُوئے فرمانے لگے میرے بیٹے اللّٰہ نے زندگی دی ہے "حیات" کو سنوارنے کے لیئے نہ کہ بگاڑنے کے لیئے تو یہ زندگی بھی بھلا کوئی "حیات" ہے جِسکو موت آ جائے گی... اصل تو وہ "حیات" ہے جِسکو کبھی زوال نہیں کبھی موت نہیں....‏.

تو زندگی ایسے گزارو کہ "حیات" سنور جائے...
‏اور میں زندگی میں تب پہلی بار سمجھا کہ اسلام مکمل ضابطہ "حیات" ہے کا اصل مطلب کیا ہے...!!...!!

*امید ہے کہ اپ بھی سمجھ گئے ہوں گے*
(Copied)

20/03/2024

*ہم میں سے 95 فیصد لوگ گزرے کل سے بہتر زندگی گزار رہے ہیں‘*

مسافر اکثر لوگوں سے پوچھتا رہتا ہے ” تم اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتاﺅ کیا تم اپنے والد سے بہتر زندگی گزار رہے ہو یا نہیں؟“ ہر شخص ہاں میں سر ہلاتا ہے‘ آپ بھی کسی دن تحقیق کر لیں آپ کو ملک کے بھکاری بھی اپنے والدین سے بہتر زندگی گزارتے ملیں گے‘ ان کے والدین سارا شہر مانگ کر صرف دس بیس روپے گھر لاتے تھے جب کہ کراچی اور لاہور کے بھکاری آج کل آٹھ دس ہزار روپے روزانہ کماتے ہیں۔

آپ کسی روز اپنے بچپن اور اپنے بچوں کے بچپن کا موازنہ بھی کر لیں‘ آپ کو دونوں میں زمین آسمان کا فرق ملے گا‘ آپ کے گھر میں بچپن میں ایک پنکھا ہوتا تھا اور پورا خاندان ”اوئے پکھا ایدھر کرئیں“ کی آوازیں لگاتا رہتا تھا‘ سارا محلہ ایک روپے کی برف خرید کر لاتا تھا‘ لوگ دوسروں کے گھروں سے بھی برف مانگتے تھے‘ ہمسایوں سے سالن مانگنا‘ شادی بیاہ کے لیے کپڑے اور جوتے ادھار لینا بھی عام تھا‘ بچے پرانی کتابیں پڑھ کر امتحان دیتے تھے۔

لوگوں نے باہر اور گھرکے لیے جوتے اور کپڑے الگ رکھے ہوتے تھے‘ دستر خوان پر دوسرا سالن عیاشی ہوتا تھا‘ سویٹ ڈش میں صرف میٹھے چاول اور کھیر بنتی تھی‘ مرغ صرف بیماری کی حالت میں پکایا جاتا تھا جب مرغا یا مرغے کا مالک بیمار پڑ جاتا، اور بیمار بے چارے کو اس کا بھی صرف شوربہ ملتا تھا‘ پورے محلے میں ایک فون ہوتا تھا اور سب لوگوں نے اپنے رشتے داروں کو وہی نمبر دے رکھا ہوتا تھا‘ ٹیلی ویژن بھی اجتماعی دعا کی طرح دیکھا جاتا تھا‘ بچوں کو نئے کپڑے اور نئے جوتے عید پر ملتے تھے۔

سائیکل خوش حالی کی علامت تھا اور موٹر سائیکل کے مالک کو امیر سمجھا جاتا تھا‘ گاڑی صرف کرائے پر لی جاتی تھی‘ بس اور ٹرین کے اندر داخل ہونے کے لیے باقاعدہ دھینگا مشتی ہوتی تھی‘ کھنے سیک دیے جاتے تھے اور کپڑے پھٹ جاتے تھے‘ گھر کا ایک بچہ ٹی وی کا انٹینا ٹھیک کرنے کے لیے وقف ہوتا تھا‘ وہ آدھی رات تک ”اوئے بالے”کی آواز پر دوڑ کر ممٹی پر چڑھ جاتا تھا اور انٹینے کو آہستہ آہستہ دائیں سے بائیں گھماتا رہتا تھا اور اس وقت تک گھماتا رہتا تھا جب تک نیچے سے پورا خاندان ”اوئے بس“ کی آواز نہیں لگا دیتا تھا۔

پورے گھر میں ایک غسل خانہ اور ایک ہی ٹوائلٹ ہوتا تھا اور اس کا دروازہ ہر وقت باہر سے بجتا رہتا تھا‘ سارا بازار مسجدوں کے استنجا خانے استعمال کرتا تھا‘ نہانے کے لیے مسجد کے غسل خانے کے سامنے قطارلگتی تھی‘ نائی غسل خانے بھی چلاتے تھے‘ یہ سردیوں میں حمام کے نیچے لکڑیاں جلاتے رہتے تھے اور لوگ غسل خانوں کے اندر گرم پانی کے نیچے کھڑے رہتے تھے اور نائی جب ان سے کہتا تھا ”باﺅ جی بس کردیو پانی ختم ہو گیا جے“ تو وہ اس سے استرا یا تیل مانگ لیا کرتے تھے اور لوگ کپڑے کے ”پونے“ میں روٹی باندھ کر دفتر لے جاتے تھے۔

بچوں کو بھی روٹی یا پراٹھے پر اچار کی پھانگ رکھ کر سکول بھجوا دیا جاتا تھا اور یہ ”لنچ بریک“ کے دوران یہ لنچ پھڑکا کر نلکے کا پانی پی لیتے تھے اور یہ وہ زمانہ تھا جس میں کھانا‘ کھانا نہیں ہوتا تھا روٹی ہوتا تھا‘ امیر ترین اور غریب ترین شخص بھی ڈنر یا لنچ کو روٹی ہی کہتا تھا‘ لوگ لوگوں کو کھانے کی نہیں روٹی کی دعوت دیتے تھے اور یہ زیادہ پرانی بات نہیں‘ چالیس اور پچاس سال کے درمیان موجود اس ملک کا ہر شخص اس دور سے گزر کر یہاں پہنچا ہے۔

آپ کسی سے پوچھ لیں آپ کو ہر ادھیڑ عمر پاکستانی کی ٹانگ پر سائیکل سے گرنے کا نشان بھی ملے گا اور اس کے دماغ میں انٹینا کی یادیں بھی ہوں گی اور کوئلے کی انگیٹھی اور فرشی پنکھے کی گرم ہوا بھی‘ ہم سب نے یہاں سے زندگی شروع کی تھی‘ اللہ کا کتنا کرم ہے اس نے ہمیں کہاں سے کہاں پہنچا دیا!۔آپ یقین کریں قدرت ایک نسل بعد اتنی بڑی تبدیلی کا تحفہ بہت کم لوگوں کو دیتی ہے‘ آج اگر یورپ کا کوئی بابا قبر سے اٹھ کر آ جائے تو اسے بجلی‘ ٹرین اور گاڑیوں کے علاوہ یورپ کے لائف سٹائل میں زیادہ فرق نہیں ملے گا جب کہ ہم اگر صرف تیس سال پیچھے چلے جائیں تو ہم کسی اور ہی دنیا میں جا گریں گے۔

سوال یہ ہے کہ
اتنی ترقی‘ اتنی خوش حالی اور لائف سٹائل میں اتنی تبدیلی کے باوجود ہم لوگ خوش کیوں نہیں ہیں؟ مسافر جب بھی اپنے آپ سے یہ سوال کرتا ہے تو اس کے ذہن میں صرف ایک ہی جواب آتا ہے‘ ناشکری‘ ہماری زندگی میں بنیادی طور پر شکر کی کمی ہے‘ ہم ناشکرے ہیں‘ آپ نے انگریزی کا لفظ ڈس سیٹس فیکشن سنا ہوگا‘ یہ صرف ایک لفظ نہیں ‘ یہ ایک خوف ناک نفسیاتی بیماری ہے اور اس بیماری میں مبتلا لوگ تسکین کی نعمت سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اللہ
تعالٰی ہمارے حال پہ رحم فرمائے اور ہمیں اپنا شکر گذار بندہ بنائے۔
(Copied)

Address

Taif

Opening Hours

Monday 6pm - 9pm
Tuesday 6pm - 9pm
Wednesday 6pm - 9pm
Thursday 6pm - 9pm
Friday 6pm - 9pm
Saturday 6pm - 9pm

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Thoracic/Chest Surgeon Dr Muhammad Rashid posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share