Prof. Dr. Asif Hanif

Prof. Dr. Asif Hanif An internationally renowned professor of biostatistics, data scientist, & motivational speaker.

اپنے اپنے مزاج کی خوشبوہر انسان اپنے اندر ایک الگ خوشبو رکھتا ہے اوریہ خوشبو اس کے مزاج، سوچ، نیت اور رویّے سے بنتی ہے۔ک...
30/12/2025

اپنے اپنے مزاج کی خوشبو

ہر انسان اپنے اندر ایک الگ خوشبو رکھتا ہے اور
یہ خوشبو اس کے مزاج، سوچ، نیت اور رویّے سے بنتی ہے۔
کچھ لوگ خاموش ہوتے ہیں مگر ان کی خاموشی میں سکون کی مہک ہوتی ہے،
کچھ بہت بولتے ہیں مگر ان کی باتوں میں خلوص کی خوشبو رچی ہوتی ہے۔

سائنسی طور پر بھی انسان کا رویّہ اس کے جذباتی نظام (emotional regulation)، تجربات، اور سماجی تربیت کا عکس ہوتا ہے۔
اسی لیے ہر شخص کا ردِعمل، برداشت، اور اظہار مختلف ہوتا ہے۔
اور یہی فرق اس کی “مزاجی خوشبو” بن جاتا ہے۔

مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب ہم اپنی خوشبو دوسروں پر زبردستی لگانا چاہتے ہیں۔
دانشمندی یہ ہے کہ
خود کی خوشبو کو خالص رکھا جائے،
اور دوسروں کی خوشبو کو قبول کرنا سیکھا جائے۔

کوشش کریں آپکے مزاج کی خوشبو ہمیشہ کے لیئے یاد رکھی جائی۔

اللہ ھم سب کی زندگیوں اور آخرت میں برکت عطا کرے۔ آمین

نیا سالاے ربِّ کریم!نئے سال کی دہلیز پرہم تیرے حضور ہاتھ اٹھاتے ہیںہمیں ایسا دل عطا کرجو شکر میں جھکا رہے،اور ایسی آنکھی...
29/12/2025

نیا سال

اے ربِّ کریم!
نئے سال کی دہلیز پر
ہم تیرے حضور ہاتھ اٹھاتے ہیں

ہمیں ایسا دل عطا کر
جو شکر میں جھکا رہے،
اور ایسی آنکھیں دے
جو امید کے خواب دیکھ سکیں۔

ہمارے دنوں کو حکمت دے،
راتوں کو سکون بخش،
قدموں کو راستہ دکھا
اور نیتوں کو خلوص۔

جو بچھڑ گئے، ان پر رحمت نازل فرما،
جو تھک گئے، انہیں حوصلہ دے،
جو بھٹک گئے، انہیں ہدایت دے،
اور جو مانگتے ہیں، انہیں بہتر عطا فرما۔

اے پروردگار!
اس سال کو امن کا پیغام بنا دے،
عدل کو مضبوط،
محبت کو عام،
اور ہمیں نفع بخش انسان بنا دے۔

ہماری خطاؤں کو معاف فرما،
ہماری کوششوں کو قبول کر،
اور اس نئے سال کو
تیری رضا کا سفر بنا دے۔

آمین

زندگی کے رنگ سہانےزندگی صرف سانسوں کا تسلسل نہیں، یہ احساسات، تجربات اور سیکھنے کے مراحل کا ایک خوبصورت امتزاج ہے۔ اس کے...
28/12/2025

زندگی کے رنگ سہانے

زندگی صرف سانسوں کا تسلسل نہیں، یہ احساسات، تجربات اور سیکھنے کے مراحل کا ایک خوبصورت امتزاج ہے۔ اس کے کچھ رنگ شوخ اور روشن ہوتے ہیں خوشی، کامیابی اور محبت کے اور کچھ مدھم، جیسے صبر، انتظار اور خاموشی۔ مگر سائنسی اور نفسیاتی حقیقت یہ ہے کہ یہی تضاد زندگی کو معنی دیتا ہے؛ روشنی کی قدر اندھیرے کے بعد ہی بڑھتی ہے۔

انسانی دماغ تجربات سے سیکھتا ہے۔ مشکلات نیورل راستوں کو مضبوط کرتی ہیں، فیصلہ سازی کو بہتر بناتی ہیں، اور جذباتی برداشت پیدا کرتی ہیں۔ خوشی کے لمحات ڈوپامین اور سیروٹونن جیسے نیوروٹرانسمیٹرز کے ذریعے امید اور تحریک کو بڑھاتے ہیں، جبکہ غم کے دن ہمیں خود آگاہی اور ہمدردی سکھاتے ہیں۔ یوں ہر رنگ چاہے ہلکا ہو یا گہرا زندگی کی تصویر کو مکمل کرتا ہے۔

زندگی مزہ لینا ہے تو اسکے ہر رنگ کو قبول کر یں، شکایت کے بجائے شکر اور خوف کے بجائے حکمت کو جگہ دیں۔ جو زندگی کے تمام رنگ سمیٹ لیتا ہے، وہی زندگی کی اصل خوبصورتی کو سمجھتا ہے۔

اللہ ھم سب کی زندگیوں اور آخرت میں برکت عطا کرے۔ آمین

ایلون مسک کہ رہا ہے کہ انسانوں کو مستقبل میں پیسوں اور چیزوں کی ضرورت نہیں رہے گی 🥹
26/12/2025

ایلون مسک کہ رہا ہے کہ انسانوں کو مستقبل میں پیسوں اور چیزوں کی ضرورت نہیں رہے گی 🥹

🎂 یومِ پیدائش — قائدِ اعظم محمد علی جناحؒMuhammad Ali Jinnah برصغیر کے اُن عظیم رہنماؤں میں شامل ہیں جنہوں نے دلیل، قانو...
24/12/2025

🎂 یومِ پیدائش — قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ

Muhammad Ali Jinnah برصغیر کے اُن عظیم رہنماؤں میں شامل ہیں جنہوں نے دلیل، قانون اور اصول پسندی کی بنیاد پر تاریخ کا رخ موڑ دیا۔ قائدِ اعظم 25 دسمبر 1876ء کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان گئے، جہاں قانون کی ڈگری حاصل کی اور کم عمری میں ایک کامیاب بیرسٹر کے طور پر پہچانے گئے۔ وطن واپسی پر انہوں نے سیاست میں قدم رکھا اور آئینی جدوجہد کو اپنا ہتھیار بنایا۔

قائدِ اعظم کا سیاسی سفر دیانت، نظم و ضبط اور قانونی بصیرت سے عبارت ہے۔ وہ پہلے متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کے حقوق کے پُرزور علمبردار بنے، پھر آل انڈیا مسلم لیگ کی قیادت سنبھالی اور ایک علیحدہ، خودمختار ریاست کے قیام کے لیے مسلسل جدوجہد کی۔ 14 اگست 1947ء کو پاکستان کے قیام کے ساتھ وہ اس نئے ملک کے پہلے گورنر جنرل بنے۔ ان کا وژن ایک ایسی ریاست تھا جہاں قانون کی بالادستی ہو، شہریوں کو مساوی حقوق حاصل ہوں اور ریاست مذہبی آزادی اور انصاف کی ضامن ہو۔

قائد ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ قومیں جذبات سے نہیں بلکہ اداروں کی مضبوطی، شواہد پر مبنی فیصلوں اور میرٹ سے آگے بڑھتی ہیں۔ ان کا پیغام—اتحاد، ایمان، نظم و ضبط—محض نعرہ نہیں بلکہ ایک قابلِ عمل قومی فریم ورک ہے، جو آج بھی ہماری رہنمائی کرتا ہے۔

🇵🇰 سالگرہ مبارک، قائدِ اعظم!
آئیں، ان کے وژن کو سچائی، انصاف اور عمل کے ذریعے زندہ رکھیں

Happpy birthday my ever dearest and ideal leader, may you be blessed and rest in Heavens
24/12/2025

Happpy birthday my ever dearest and ideal leader, may you be blessed and rest in Heavens

Umeed hay thora sakoon mila ho ga
23/12/2025

Umeed hay thora sakoon mila ho ga

Congrats U19 Team Pakistan.Well done.
21/12/2025

Congrats U19 Team Pakistan.
Well done.

Its usually said that you shouldnt expect fruit from trees  after you cut their roots. یہ زندگی کا سب سے بڑا مغالطہ ہے ک...
21/12/2025

Its usually said that you shouldnt expect fruit from trees after you cut their roots.
یہ زندگی کا سب سے بڑا مغالطہ ہے کہ ہم رشتوں کی جڑیں کاٹ دیتے ہیں،
اقدار کو نظرانداز کر دیتے ہیں،
محنت کو وقتی سمجھ لیتے ہیں،
اور پھر حیران ہوتے ہیں کہ نتیجہ کیوں نہیں مل رہا۔
درخت پھل اس لیے دیتا ہے کہ اس کی جڑیں خاموشی سے زمین میں جمی رہتی ہیں.
پانی بھی وہیں جاتا ہے، طاقت بھی وہیں بنتی ہے، صبر بھی وہیں سیکھا جاتا ہے۔
زندگی میں بھی یہی اصول ہے:
جڑیں = نیت، صبر، مستقل مزاجی، تعلق، اور اخلاق۔
اگر یہ کمزور ہوں، تو کامیابی صرف ایک عارضی سایہ بن جاتی ہے۔

کٹے ہوئے اصولوں پر کوئی پائیدار کامیابی نہیں اُگتی۔
پھل چاہیے تو پہلے جڑوں کی حفاظت سیکھنی ہوگی۔

🌱 Strong roots, honest effort, real growth.

بولتی تصویریں۔ درمیان میں جھکا ہوا پرندہ شاید اپنی چونچ زمین پر رکھ کر کچھ تلاش نہیں کر رہا، بلکہ اپنے اندر جھانک رہا ہے...
20/12/2025

بولتی تصویریں۔

درمیان میں جھکا ہوا پرندہ شاید اپنی چونچ زمین پر رکھ کر کچھ تلاش نہیں کر رہا، بلکہ اپنے اندر جھانک رہا ہے۔ دائیں اور بائیں کھڑے پرندے سیدھے ہیں، مضبوط ہیں، مگر حرکت میں نہیں۔ تینوں ایک ہی جگہ، ایک ہی ماحول میں ہیں۔ لیکن سوچ، زاویہ اور رویّہ الگ ہے۔

زندگی بھی کچھ ایسی ہی ہوتی ہے۔
کوئی سیدھا کھڑا ہو کر خود کو کامل سمجھ لیتا ہے،
کوئی بس تماشائی بن کر رہ جاتا ہے،
اور کوئی وہ ہوتا ہے جو جھک کر خود احتسابی کرتا ہے، خاموشی سے سیکھتا ہے، اور زمین سے جڑ کر حقیقت کو سمجھتا ہے۔

مزا تب آتا ہے جب کوئی خود کو جھکانا سیکھ لیتا ہے،
وہی وقت آنے پر سب سے اونچا اُڑتا ہے۔

کبھی کبھی خاموشی اور جھکاؤ، ہزار نعروں سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے

اللہ ھم سب کی زندگیوں اور آخرت میں برکت عطا کرے۔ آمین

Pic credit: myself 😊🌷

19/12/2025

انسان جو عزت، خلوص اور آسانی دوسروں کو دیتا ہے،
وقت اسے وہی سب کچھ رشتوں کی صورت میں لوٹا دیتا ہے۔
جو کل لوگوں کے لیے سہارا بنا،
آج وہ تنہا نہیں ہوتا۔

اچھے لوگ نصیب سے نہیں،
اچھے کردار سے ملتے ہیں۔
Have a good day

18/12/2025

اگر آج آپ کی زندگی میں اچھے لوگ موجود ہیں،
تو یہ محض اتفاق نہیں , یہ آپ کے ماضی کا عکس ہے۔

یہ جملہ بظاہر سادہ ہے، مگر اپنے اندر انسانی زندگی، نفسیات اور سماجی رویّوں کی ایک گہری حقیقت سموئے ہوئے ہے۔ انسان جو کچھ آج پاتا ہے، وہ اکثر اُس کے کل کے رویّوں، فیصلوں اور نیتوں کا منطقی تسلسل ہوتا ہے۔ اچھے لوگ اچانک ہماری زندگی میں نہیں آتے؛ وہ خاموشی سے اُن راستوں پر چل کر آتے ہیں جو ہم نے ماضی میں اپنے کردار سے بنائے ہوتے ہیں۔

زندگی میں احترام، دیانت، برداشت اور خلوص جیسی قدریں وہ بیج ہیں جو فوراً پھل نہیں دیتے، مگر وقت کے ساتھ مضبوط جڑیں پکڑ لیتے ہیں۔ جو شخص دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرتا ہے، ان کی بات سنتا ہے، ان کے دکھ کو اپنا سمجھتا ہے، وہ نادانستہ طور پر ایک ایسا سماجی سرمایہ جمع کر لیتا ہے جو مشکل وقت میں انسان کے کام آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب زندگی کسی موڑ پر آزمائش لاتی ہے، تو ایسے انسان اکیلے نہیں رہتے۔

نفسیاتی تحقیق بھی اس بات کی تائید کرتی ہے کہ مثبت سماجی رویّے (prosocial behaviors) انسان کے اردگرد اعتماد اور تعاون کا ماحول پیدا کرتے ہیں۔ ایسے افراد کے تعلقات زیادہ پائیدار ہوتے ہیں، ان میں تنازع کم اور باہمی سمجھ بوجھ زیادہ ہوتی ہے۔ سماجی نیٹ ورک تھیوری کے مطابق انسان کے روابط اس کے رویّوں کی عکاسی کرتے ہیں؛ اچھا رویّہ مضبوط اور صحت مند تعلقات کو جنم دیتا ہے، جبکہ سختی اور خود غرضی تنہائی کی بنیاد بنتی ہے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اچھے لوگ ہر کسی کو نہیں ملتے۔ بعض اوقات انسان یہ شکوہ کرتا ہے کہ اس کے ساتھ مخلص لوگ کیوں نہیں رہتے، مگر کم ہی کوئی اپنے ماضی کے رویّوں کا جائزہ لیتا ہے۔ تعلقات محض الفاظ سے نہیں بنتے، بلکہ مستقل عمل، صبر اور اخلاقی رویّے سے تشکیل پاتے ہیں۔ جو شخص وقتی فائدے کے لیے لوگوں کو استعمال کرتا ہے، وہ آخرکار تنہائی کے دائرے میں آ جاتا ہے۔

اگر آج آپ کے اردگرد ایسے لوگ ہیں جو بغیر غرض کے آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، آپ کی خاموشی سمجھ لیتے ہیں، اور مشکل وقت میں آپ کا ہاتھ تھام لیتے ہیں، تو اسے اپنی خوش قسمتی نہ سمجھیں بلکہ اپنی ذمہ داری بھی جانیں۔ یہ لوگ آپ کے ماضی کی گواہی ہیں، اور آپ کے کردار کا تسلسل ہیں۔

Address

Medical Research And Statistical Consultancy Training Centre
Esentepe
54050

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Prof. Dr. Asif Hanif posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Prof. Dr. Asif Hanif:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram