Dr. Shabbir Janjua Noreen Hospital

  • Home
  • Dr. Shabbir Janjua Noreen Hospital

Dr. Shabbir Janjua Noreen Hospital I Teach Homoeopathic Doctors to Homoeopatic Medicine own my twenty two years of Experience, With Different Method.

20/06/2024

تحریر تحقیق و تجربہ ڈاکٹر محمد شبیر جنجوعہ نورین ہسپتال اسلام آباد

گیسٹرائٹس، کرانک گیسٹرائٹس،اٹوپک گسٹرائٹس،پین گیسٹرائٹس
یوں تو معدے کی سوزش کی بے شمار وجوہات و اقسام ہیں جن میں درجہ زیل زیادہ دیکھی جاتی ہیں
H. Pylori Gastritis
ری ایکٹو گیسٹروپیتھی
آٹومیمون گیسٹرائٹس
شدید کٹاؤ گیسٹروپیتھی
پیپٹک السر۔
خون کی کمی
ایٹروفک گیسٹرائٹس
معدہ کا کینسر
لیکن ہم یہاں تین قسم کی گیسٹرائٹس پر بات کرتے ہیں ان اقسام کی سوزش کے مریض زیادہ دیکھنے کو ملتے ہیں اور کلینک کا وزٹ کرتے رہتے ہیں
گیسٹرائٹس کی تعریف

گیسٹرائٹس معدے کی پرت یا پہلی سطح سرخ متورم اور سوج جاتی ہے اور ایریٹیٹ ہو جاتی ہے یہ سطح کافی مضبوط ہوتی ہے معدے کا تیزاب اسے نقصان نہیں پہنچاتا۔ لیکن معدے کی انفیکشن جیسے ایچ پائلوری، شراب، ادویات ، تمباکو، سٹریس یا زہنی دباو اور غیر معتدل خوراک معدے کی دیوار یا پرت یا سطح کو نقصان پہنچا دیتی ہے اس وجہ سے معدے میں سوزش ہو جاتی ہے
H. pylori (Helicobacter pylori 1
یہ بیکٹیریا معدے اور چھوٹی آنت کے پہلے حصہ میں انفیکشن کر کے معدے کی سوزش کا سبب بن جاتے ہیں یہ انفیکشن معدے کے السر یعنی پپٹک السر کی سب سے بڑی وجہ یہ ہی انفیکشن ہوتی ہے
علامات
معدے میں درد اور جلن یہ خالی معدہ زیادہ ہوجاتی ہے
جی متلانا ،بھوک میں کمی یا زیادتی، گھبراہٹ اور تیز دھڑکن،اپھارہ،بے چینی،وزن میں کمی ،کندھوں میں دردیں ،زبان کا زائقہ خراب،
زرا سا کچھ کھا پی لینے سے معدہ سوج کر پھول جائے اور گھبراہٹ معدے کا درد جس میں شدید جلن کا احساس زرا سی بد پرہیزی سے گھنتوں جلن رہے رات کا کھانا شدید درد و جلن پیدا کرے
زیادہ تر کیسس میں شدید جلن شدید گھبراہٹ و بے چینی اورشدید درد کا احساس پایا جاتا ہے
پین گسٹرائٹس Pan Gastrititis 2
پینگسٹرائٹس پیٹ کی پوری دیوار کی سوزش ہےیہ ایچ پائلوری انفیکشن، آٹو امیون ڈزیز یا قوت مدافعت کی بیماریوں، الکحل کا زیادہ استعمال، اسپرین اور دیگردردوالی دوائیوں یا کورٹیکوسٹیرائڈز جیسی دوائیوں کے لگاتار سے استعمال کی وجہ سے ہو سکتی ہے۔ معدے کی اوپری پوری تہہ کی سوزش کو پین گیسٹرائٹس کہتے ہیں اس مرض میں انٹرال اور اوکسائنٹک میوکوسا جو کہ انٹرم معدے کے نچلے حصے میں اورفنڈس اپری حصے میں ہوتی ہیں متاثر ہو جاتی ہیں ۔پینگسٹرائٹس کی علامات
پیٹ کا درد عموما یہ اپی گیسٹریک ریجن میں درد ہوتا ہے اس کے ساتھ زرا سی غذٓ کھانے سے اپھارہ گیس ڈکار ہر ویسے بھی معدہ پھولا ہوا بھاری بوجھل اور سوجا ہوا محسوس ہوتا ہے متلی کی سی کیفیت دونوں پسلیوں کے نیچے درد کبھی بھی خوراک کی قے ساتھ ڈکار ، معدہ بھاری اور پھولا ہوا جیسے غذا سے بھرا ہوا اس کیفت سے بھوک کی کمی.زرا سا کھانے کے بعد پیٹ بھرجانا
Atropic Gastritis 3
اٹروپک گیسٹرائٹس
اس قسم کی گیسٹرائٹس میں معدے کے استر یا پرت یا پہلی سطح کی مستقل سوزش اوراستر کا پتلا ہونا شکل و ہیت بدلنا اور معدے کے استر کے خلیے آنتوں کے خلیوں کی نقل کرکے تبدیل ہوجاتے ہیں ۔ ایٹروفک گیسٹرائٹس ماحولیاتی آلودگی، ایچ پائلوری اور دوسرے عوامل کی وجہ سے ہوتی ہے
علامات
چھاتی یا سینے میں درد رہنا، دل میں دھڑکن ، تیز نبض ،متلی،جلد کا رنگ ہلکا پیلا، ایسی چیزیں دیکھنا، سننا یا محسوس کرنا جو وہاں نہیں ہیں، بے چینی، اشتعال انگیزطبیعت ، لڑائی جھگڑا کرنے پر تیاررہنا خاموش رہنا یا کام کاج سے جی چرانا،سستی ، نیند کی خراب عادات۔ رات کے دن سونے اور جاگنے کے چکر کا الٹ جانا، کانوں میں گھنٹی بجنا (ٹنائٹس)

میں نے زیادہ تر کیسس ڈھیل کیے ہوئے ہیں تو اس لیے کتابوں سے ہٹ کر میں نے وہ علامات شکایات اور تکالیف لکھی ہیں جو مریض آ کر ہمیں بتاتے ہیں اب میں ان امراض کی شارٹ کٹ ادویات بتاتا ہوں
گیسٹرائٹس ایکونائٹ بیلاڈونا ارسینک ،اپیس، بیلاڈونا، کیموملا اپی کاک نکس وامیکا،اوگزلیک ایسڈ وغیرہ
ایچ پائیلوری انفیکشن سے گیسٹرائٹس
اس گسٹراٹس کے مریض ان ادویات میں مل جاتے ہیں
انٹم کروڈ اناکارڈئیم ارجنٹم نائٹریکم تھوجا
میرا نسخہ انٹم کروڈ تھری ایکس تھوجا تھری ایکس جہاں خوف وہم نمایاں ہو وہاں انا کارڈئیم اور جہاں پیتھالوجیکل تبدیلی نمایاں ہو وہاں ارجنٹم نائٹریکم
میری تحریر موجود ہے
پین گیسٹرائٹس
نکس وامیکا کاربو ویج پلساٹیلا لائکوپوڈئیم نیٹرم فاس ، رسٹاکس وغیرہ
اٹروپک گیسٹرائٹس
بڑی دوا تین ہیں ابیس ناگرہ انٹم کروڈ اناکارڈئیم اور ارجنٹم نائٹ
دوسری تحریر بھی موجود ہے جس میں شکایات تکالیف اور علامات کے مطابق ادویات بتائی گئی ہیں
ڈاکٹر محمد شبیر جنجوعہ نورین ہسپتال اسلام آباد

08/06/2024

تحریر ڈاکٹر محمد شبیر جنجوعہ نورین ہسپتال بھارہ کہو اسلام آباد
بیماری ،میازم اور مزاج
یہ میرا زاتی خیال ہے کہ جسم کے اندر منفی قوت ہوتی ہے جس کا زکر کتاب ارگینن آف میڈیسن (ایفوریزم ۳۱) میں دیا گیا ہے ۔اس قوت کے سبب مرض اسی مریض انسان میں یا اس کی نسل سے اس مریض میں ٹرانسفر ہوتا ہے سبب کی وجہ سے میازم وجود میں آتا ہے جیسا سبب ویسا میازم جیسا میازم ویسے امراض۔ سورا کو چھور کر باقی میازم انسان کی اپنی کارستانیاں ہوتی ہیں اس لیے سائکوسس میازم سوزاک سے مریض میں اوروہاں سے اس کی نسل میں منتقل ہوتا ہے اسی طرح سفلس میازم پہلے مریض میں پھر اس کی نسل میں منتقل ہوتا ہے لیکن جدید میڈکل سائنس کے مطابق میازم کو ہم جنیٹک ڈزیز اور کنجیننٹل ڈزیز کا نام دے سکتے ہیں اور ایسا عموما ہوتا بھی ہے جیسے کزن میرج وغیرہ کی وجہ سے پیدا ہونے والے بچوں میں جینٹک ڈزیز یا کنجیننٹل ڈزیز کی وجوہات یہ ہی میازم ہوتے ہیں مگر چھپے ہوئے وقت گزرنے کے ساتھ ہی میازم کی وجہ سے امرض نمودار ہو جاتے ہیں ۔
میازم کو آسان لفظوں میں یوں سمجھنا چاہیے نسل در نسل چلتی ہوئی بیماریاں اب کچھ بیماریاں تو جدید میڈیکل سائنس نے ڈھونڈ لی ہیں اور ان کے نام بھی رکھ دیے ہیں جیسے شوگر بلڈ پریشر اور دل پھیپھڑوں کی بیماریاں جلدی مرض جیسے سورائسز دمہ وغیرہ حالانکہ یہ امراض ہوتے ہیں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میازم کے قوت پکڑنے سے یہ امراض جسم پر قبضہ کر لیتے ہیں (ایفوریزم ۸۰) یعنی بیماری کی قوت اس کی شکلیں میازم اور ان کی وجہ سے امراض ۔
لیکن جو امراض ابھی تک ڈھونڈے نہیں جا سکے وہ میازم ہی کہلائیں گے۔میازم کی ہمارے پاس تین اشکال ہیں سورا سائکوسس اور سفلس اس کے علاوہ بھی کافی میازم مانے جاتے ہیں جیسے ٹیوبر کولسز یا کینسر کا میازم لیکن یہ میازم صرف ہومیوپیتھس کی حد تک ہی مشہور ہیں کچھ ہومیوپیتھس مانتے ہیں کچھ نہیں ۔اس لیے یہ بات یہاں ختم کرتے ہیں کہ جسم کے اندر بیماری کی قوت ، اس قوت کی تین اقسام سورا سفلس سائکوسس ان کے آگے امراض جیسے شوگر جوڑوں کے امراض آنتوں کی بیماریاں آٹو امیون ڈزیز یا جینٹک ڈزیز وغیرہ
مزاج
مزاج سے جسم کی ایک ایسی حالت جس کی وجہ سے کسی انسان میں مختلف امراض جنم لیتے ہیں یعنی کہ مزاج کسی مرض کا نام نہیں ہوتا بلکہ مزاج جسم میں ایسی حالت جس کی بدولت ایک ہی وقت میں جسم کے مختلف اعضا میں امراض جنم لیتے ہیں اسے کانسٹیٹیوشن کہتے ہیں یعنی جسم پر کسی ایسی حالت کا غلبہ یا قبضہ جو جسم میں مختلف امراض جنم لینے کا سبب ہوتی ہے اس کو ہم مثال سے واضع کرتے ہیں
جیسا کہ بلغمی مزاج اس مزاج کے لوگوں کی میوکس ممبرین غدود وغیرہ بلغم زیادہ پیدا کرتے ہیں صفراوی مزاج کے لوگوں میں جسم میں اپنی ہی زہریں زیادہ پیدا ہوتی ہیں گھٹیاوی مزاج لوگوں میں نامیاتی مادے جیسے یوریک ایسڈ وغیرہ زیادہ پیدا ہوتے ہیں سوداوئی مزاج لوگوں میں اعصابی مسائل پیدا ہوتے ہیں دموی مزاج لوگوں میں سانس دل کے مسائل پیدا ہوتے ہیں اور اسی طرح نفسیاتی مزاج جیسے مالیخولہ ہسٹیریا وغیرہ بھی
لیکن ہومیوپیتھی میں مزاج کے ساتھ ساتھ ہر دوا کا ایک اپنا مزاج ہوتا ہے جیسا سیپیا وریدی مزاج نیترم سلف ہائیڈروجنائز مزاج امونیم میور آکسجنائیڈ مزاج وغیرہ وغیرہ
مزاج کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے ایک قدرتی مزاج یعنی وارثت ی ہماری عادتوں خوراک ماحول کام کی وجہ سے جسمانی غیر فطری حالت یعنی مزاج جو امراض پیدا کرے یا پھر کسی بیماری کی وجہ سے جسم کی حالت جو مزاج بن جائے مزاج سے پیدا ہونے والی تکالیف مستقل ہوتی ہیں ان تکالیفوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی ایسی علامات جو مریض میں مستقل پائی جاتی ہیں مزاجی علامات کہلاتی ہیں
البتہ بعض امراض کی وجہ سے بھی مزاج بن جاتے ہیں
جیسے ٹی بی مزاج یرقان مزاج دمہ مزاج ہسٹیریا مزاج یا مالیخولیہ مزاج وغیرہ مرض کی وجہ سے پیدا ہونے والے مزاج ٹھیک ہو جاتے ہیں اگر مرض کا مکمل خاتمہ ہو جائے تو مزاج بھی ختم
جس طرح انسان کے جسم مین صحت لانے والی قوت ہوتی ہے جسے قوت حیات کہتے ہیں اسی طرح بیماری لانے والی قوت ہوتی ہے جس کی شکل میازم ہوتی ہےمیازم ہر انسان میں موجود ہوتا ہے جیسے قوت حیات موجود ہوتی ہے لیکن ہر انسان میں مزاج نہیں ہوتا ،میازم ایک منفی غیر مرائی یعنی نیگیٹیو ڈائنامکس فورس ہو تی ہے انسان کی پیدائش سے ہی قوت حیات اور میازم موجود ہوتا ہے ہر وہ انسان جو بیمار ہو سکتا ہے وہ میازم کی وجہ سے اور صحت مند ہو سکتا ہے وہ قوت حیات کی وجہ سے
تو میازم کو ہومیوپیتھی میں بیماری کا نام دیا گیا ہے یعنی روح کی طرح وائٹل فورس روح کی طرح بیماری اس کا وجود نہیں ہوتا۔
امراض جسم کو لگتے ہیں (جسم اعصاب شعور) مرض جسم کے اندر پیدا ہوتے ہیں ختم ہو جاتے ہیں قوت حیات اور بیماری کہیں نہیں جاتی اسی لیے میازمیتک ادویات جب بطور انٹی میازم دی جاتی ہیں تو ان کی ڈوز ایک یا دو یا تین تک محدود ہوتی ہے باقی بلمثل دوا سے ہی مرض کا خاتمہ کیا جاتا ہے۔
آپ کا متفق ہونا ضروری نہیں بطور اصلاح رائے دے سکتے ہیں تنقید کا حق بھی رکھتے ہیں
ڈاکٹر محمد شبیر جنجوعہ نورین ہسپتال بھارہ کہو اسلام آباد

07/06/2024

اسکیل کار تحریر ڈاکٹر محمد شبیر جنجوعہ نورین ہسپتال بھارہ کہو اسلام آباد
اسکیل کار کے مریض کو دیکھنا ہے تو شوگر کے مریض کو دیکھ لیں جب شوگر کے مرض کی وجہ سے مریض کمزور ناتواں وزن کم ہوجاتا ہے جسم کمزور خون کی رگیں پیریفرل ہو جاتی ہیں نچلے دھڑ کی رگیں کمزور پاوں سرد پاوں میں گنگرین مریض کپڑا بھی اوڑھ نہیں سکتے اور نہ ہی پنکھے کی ہوا جھیل سکتے ہیں اچھی بھوک کھانے کے باوجود لاغر پن اور کمزوری
ان تکالیفوں کے ساتھ سانس کی تنگی بعض اوقات دل کا سائز بڑھ جانے سے پھیپھڑوں میں پانی اور سینے کی گھٹن لیٹ نہ سکنا
ہاتھ پاوں کو چھونے سے سرد محسوس ہوں پاوں سے جوتی نکل جانے کا یا جوتی پہننے کا احساس نہ ہونا پاوں مکمل بے حس ان میں شدید جلن کبھی کبھی چہرہ یا ہاتھ مڑ جائیں ایسا عموما فجر کے وقت ہوتا ہے پاوں کی ایڑی میں زخم جو بہت ہی آہستہ یعنی مہینوں لگا کر بدتدریج بڑھتا جاتا ہے ( شاہد میرے پاس تصاویر موجود ہوں ) شدید درد کی لہر جو اچانک اٹھے اور مریض ٹانگیں اور پاوں اوپر اٹھا لے مریض کو گرمی لگتی ہے مگر جسم سرد اور لیس دار پسینہ آتا ہے
میں نے سکیل کار کو بار ہا شوگر کے مریضوں میں اور بوڑھی عورتوں میں ان کی خون کی نالیوں کی خرابی کی وجہ سے پیدا ہونے والی علامات جیسے وقفے وقفے سے درد (کلاڈیکیشن) نچلے دھڑ کےپٹھوں میں تھکاوٹ یا بھاری پن
چلتے ہوئے تکلیف بڑھ جانا اور لیٹنے سے کم ہو جانا ٹانگیں اور پیر ٹھنڈے بے حسی سوئیاں یا چوئنٹیاں رینگنے جیسا احساس پایا جائے تو اس بات کی نشانی ہے کہ خون کی رگوں میں اکسیجن کی سپلائی کسی وجہ سے متاثر ہو رہی ہے ایسا عموما ارٹیریز میں چربی جمنے سے ہوتا ہے
میں سکیل کار کو تین علامات پر دیتا ہوں ایک شدید ترین درد جو وقفے سے کرنٹ کی طرح آئے مریض یک دم پاوں ٹانگیں اوپر اٹھا لے
پاوں کی شدید جلن جس کو کسی دوا سے آرام نہ آئے
بوڑھی عورتوں اور بوڑھے مردوں میں خصوصا شوگر کے مریضوں میں پاوں کی جلن بے حسی اور شدید درد ہاتھوں میں درد اس بات کی علامات ہوتی ہے کہ شوگر کی وجہ سے نیوروپیتھی ہو چکا ہے اب ان مریضوں کو درد کے لیے زنکم ویل لو پوٹینسی آرم میٹ ۲۰۰ طاقت اور سکیل کار ۳۰ طاقت بہت جلد ریلیف دے دیتی ہے
پاوں میں درد شدید درد کا اچانک حملہ لگاتار جلن اور زخم بن جائیں تو سمجھ لیں ارٹیریل پیریفرل کی بدولت خون میں اکسیجین کی سپلائی منقطع ہونا شروع اور گنگرین بننا شروع ہو جاتا ہے یہ گینگرین پاوں کے انگوٹھوں سے ایڑی تک پھر ٹانگ تک پہنچ جاتی ہے بدقسمت لوگوں میں یہ مرض اتنا شدید ہوتا ہے کہ پہلے پاوں کٹتا ہے پھر ٹانگ مگر وہ پھر بھی زندہ بچ نہیں پاتے اور دو سے تین ہفتوں میں مر جاتے ہیں البتہ بعض لوگ تین ماہ بھی نکال لیتے ہیں
اگر شوگرگنگرین کا مریض آ جائے تو زخم پر دھیاں تو دیں جیسے صاٖ ف کرنا مرہم پٹی کرنا مگر وجہ یا سبب ضرور دیکھ لیا کریں خون میں اکسیجن کی سپلائی کو بحال کرنا پہلا کام کرنا ہوتا ہے یہاں ارنیکا کام دیتی ہے الفلفا اور کاربوویج درد کے لیے اور شدید ترین درد ہوتا ہے یوفوربینم مفید رہتی ہے لیکس بھی کار آمد رہتی ہے نہ زخم سے گھبرائیں اور نہ ہی درد سے کیوں کہ میرے تجربے کے مطابق اس تکلیف میں ایلوپیتھک درد کش انجکشن ٹرامال بھی ناکام ہو جاتا ہے بعض اوقات مریض پری گبلین کیپسول سے بھی ایڈکٹ ہوتا ہے شوگر کے مریض عموما ایسی ادویات استعمال کرتے ہیں جو نشہ آور ڈرگ ہوتی ہیں اس لیے ہومیوپیتھک ادویات جلدی جلدی فائدہ نہیں دیتی
تحریر و تحقیق و پریکٹس ڈاکٹر محمد شبیر جنجوعہ نورین ہسپتال اسلام آباد

03/06/2024

ہیضہ اور گیسٹرو انٹرائٹس
گرمی کے موسم میں یہ دو بیماریاں عام دیکھنے کو ملتی ہیں
ہیضہ صرف ہیضہ کاجرثومہ سے ہی ہوگا اور اس کو ویبریو کالرائی کہتے ہیں
ہیضے میں چاول کی پیچ جیسا یعنی کہ واٹری ڈائریا یا دست ہوگا اور ایک ڈائریا کے بعد صرف پانی ہی نکلے گا اور بغیر کسی حاجت کے پانی نکلے گا مسلسل نکلے گا اور ساتھ میں الٹیاں شروع ہو جائیں گی جبکہ اس کے علاوہ کسی بھی انفیکشن میں دست و الٹیوں میں پیٹ میں کریمپ، درد اور جلاب سے پہلے ارجنگ یا حاجت ہونا ضرور ہوں گی
" کسی بھی گیسٹرو انٹرائٹس میں یا کسی بھی دست الٹیوں میں بخار ہوگا یا نہیں ہوگا لیکن ہیضہ میں بخار بلکل بھی نہیں ہوگا بلکہ ٹمپریچر نارمل سے بھی کم ہوگا
ہیضہ میں پانی کے ساتھ ساتھ آخر میں یا درمیان میں یا کبھی بھی خون یا آؤں یا جاگ ی ا آوں نہیں آئیں گے جبکہ گیسٹر و انٹرائٹس میں ایسا ہو سکتا ہے
گیسٹرو میں یا دست الٹی میں دست پہلے اور الٹیاں بعد ہوتی ہیں لیکن ہیضہ میں الٹی اور دست بیک وقت اور ساتھ ساتھ ہوتے ہیں


ڈی ہائیڈریشن یعنی پانی اور نمکیات کی کمی جتنی جلدی ہیضہ میں ہوتی ہے کہ مریض شاک میں چلا جاتا ہے اس کو ہائیپو والیومک شاک کہتے ہیں اتنی گیسٹرو انٹرائٹس میں نہیں ہوتی
" ہیضہ میں کریمپس کی نوبت نہیں آتی، یا آسکتی ہے لیکن اس نوبت کے آنے تک مریض نڈھال ہلکان اور موت کے قریب چلا جاتا ہے
"تجھے ہیضہ ہو جائے"
یہ بددعا کا لفظ کیوں استعمال ہوتا تھا؟ کیونکہ ہیضہ سے آن کے آن یعنی ایک ہی دن میں پورے کے پورے قضبے اور گاؤں صفایا ہو جاتے تھے کیونکہ ہیضہ ایک گھنٹے کے اندر اندر انسان کو موت کے قریب کر سکتا ہے یا کم سے کم ایک دن کے اندر وہ شاک میں لیجا سکتا ہے
گیسٹرو انٹرائٹس
معدے اور چھوٹی آنت کی قلیل مدتی بیماری ہے جو نظام انہضام کی انفیکشن اور سوزش سے پیدا ہوتی ہے گیسٹرو انٹرائٹس کے اسباب و وجوہات میں وائرس، بیکٹیریا، بیکٹیریل ٹاکسن، پیراسائٹس، مخصوص کیمیکلز اور کچھ ادویاتی مادے شامل ہیں۔
عموما ناقص خوراک کی وجہ سے گرمی کے موسم میں( آجکل تو سردیوں میں بھی) یہ بیماری عام دیکھنے کو ملتی ہے۔
علامات
گیسٹرو انٹرائٹس جیسا کہ نام سے ظاہر ہے پہلے معدے میں سوزش ہو گی پھر سوزش پھیل کر چھوٹی آنت تک پہنچ جائے گی
پہلے پہل معدے اور پیٹ کے مقام پر درد ہو گا پھر درد بڑھتا جائے گا امتلی شروع ہو جائے گی پھر پیٹ درد بڑھنے کے بعد قے ہونا شروع ہو گی اپھارہ کی سی کیفیت ہو گی
قے کی کیفیت جاری رہے گی ساتھ ہی پیٹ میں کریمپس پڑیں گے اورجو غذا آنتوں میں موجود ہو گی وہ ہضم ہوئے بغیر نکلنا شروع ہو گی
معدہ خالی ہونے کے بعد جھاگ کی سی الٹی اور جو کچھ کھایا پیا جائے گا فوری الٹی ہو جائے گا
کافی سارے دستوں کے بعد ہلکا بخار جسم درد اور سردی محسوس ہو گی بخار نہیں بھی ہو سکتا اور تیز بخا ر بھی ہو سکتا ہے
دستوں میں میوکس آوں بلغم یا خون کی ملاوٹ ہو سکتی ہے
منہ خشک اورپانی کی طلب بڑھ سکتی ہے
بے چینی ہو سکتی ہے اور پیٹ تنا ہوا ہو سکتا ہے

03/06/2024

ہیضہ اور گیسٹرو انٹرائٹس
گرمی کے موسم میں یہ دو بیماریاں عام دیکھنے کو ملتی ہیں
ہضہی صرف ہضہم کاجرثومہ سے ہی ہوگا اور اس کو ویبریو کالرائی کہتے ہیں
ہضےی مںف چاول کی پچا جاسو یینر کہ واٹری ڈائریا یا دست ہوگا اور ایک ڈائریا کے بعد صرف پانی ہی نکلے گا اور بغرت کسی حاجت کے پانی نکلے گا مسلسل نکلے گا اور ساتھ مںو الٹاسں شروع ہو جائں گی جبکہ اس کے علاوہ کسی بھی انفیکشن میں دست و الٹونں مںس پٹ مںٹ کریمپ، درد اور جلاب سے پہلے ارجنگ یا حاجت ہونا ضرور ہوں گی
" کسی بھی گیسٹرو انٹرائٹس مںس یا کسی بھی دست الٹو ں مں بخار ہوگا یا نہںص ہوگا لکنن ہضہں مںو بخار بلکل بھی نہںچ ہوگا بلکہ ٹمپریچر نارمل سے بھی کم ہوگا
ہضہ مںب پانی کے ساتھ ساتھ آخر مںا یا درماین مںر یا کبھی بھی خون یا آؤں یا جاگ ی ا آوں نہںٹ آئںی گے جبکہ گیسٹر و انٹرائٹس مںٹ ایسا ہو سکتا ہے
گیسٹرو مںٹ یا دست الٹی مںا دست پہلے اور الٹاسں بعد ہوتی ہیں لکنے ہضہی مںو الٹی اور دست بک وقت اور ساتھ ساتھ ہوتے ہیں


ڈی ہائڈ ریشن یعنی پانی اور نمکیات کی کمی جتنی جلدی ہضہ مں ہوتی ہے کہ مریض شاک مںو چلا جاتا ہے اس کو ہائپو والو مک شاک کہتے ہں اتنی گیسٹرو انٹرائٹس میں نہیں ہوتی
" ہیضہ مںی کریمپس کی نوبت نہیں آتی، یا آسکتی ہے لکنت اس نوبت کے آنے تک مریض نڈھال ہلکان اور موت کے قریب چلا جاتا ہے
"تجھے ہضہب ہو جائے"
یہ بددعا کا لفظ کواں استعمال ہوتا تھا؟ کو نکہ ہضہا سے آن کے آن یین ایک ہی دن مںے پورے کے پورے قضبے اور گاؤں صفایا ہو جاتے تھے کو نکہ ہضہ ایک گھنٹے کے اندر اندر انسان کو موت کے قریب کر سکتا ہے یا کم سے کم ایک دن کے اندر وہ شاک مںد لجا سکتا ہے
گیسٹرو انٹرائٹس
معدے اور چھوٹی آنت کی قلیل مدتی بیماری ہے جو نظام انہضام کی انفیکشن اور سوزش سے پیدا ہوتی ہے گیسٹرو انٹرائٹس کے اسباب و وجوہات میں وائرس، بیکٹیریا، بیکٹیریل ٹاکسن، پیراسائٹس، مخصوص کیمیکلز اور کچھ ادویاتی مادے شامل ہیں۔
عموما ناقص خوراک کی وجہ سے گرمی کے موسم میں( آجکل تو سردیوں میں بھی) یہ بیماری عام دیکھنے کو ملتی ہے۔
علامات
گیسٹرو انٹرائٹس جیسا کہ نام سے ظاہر ہے پہلے معدے میں سوزش ہو گی پھر سوزش پھیل کر چھوٹی آنت تک پہنچ جائے گی
پہلے پہل معدے اور پیٹ کے مقام پر درد ہو گا پھر درد بڑھتا جائے گا امتلی شروع ہو جائے گی پھر پیٹ درد بڑھنے کے بعد قے ہونا شروع ہو گی اپھارہ کی سی کیفیت ہو گی
قے کی کیفیت جاری رہے گی ساتھ ہی پیٹ میں کریمپس پڑیں گے اورجو غذا آنتوں میں موجود ہو گی وہ ہضم ہوئے بغیر نکلنا شروع ہو گی
معدہ خالی ہونے کے بعد جھاگ کی سی الٹی اور جو کچھ کھایا پیا جائے گا فوری الٹی ہو جائے گا
کافی سارے دستوں کے بعد ہلکا باار جسم درد اور سردی محسوس ہو گی بخار نہیں بھی ہو سکتا اور تیز بخا ر بھی ہو سکتا ہے
دستوں میں میوکس آوں بلغم یا خون کی ملاوٹ ہو سکتی ہے
منہ خشک اورپانی کی طلب بڑھ سکتی ہے
بے چینی ہو سکتی ہے اور پیٹ تنا ہوا ہو سکتا ہے
سرکامل خان کامل ڈاکٹر محمد شبیر جنجوعہ نورین ہسپتال

30/05/2024

سفید آٹے کے نقصانات
ماہرین صحت کے مطابق سفید آٹا بنیادی طور پر ریفائن آٹے کو کہا جاتا ہے جو انسانی معدے کے لیے محض سفید گلو سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ اس کو زیادہ کھانے سے نہ صرف معدے کے مسائل بڑھتے ہیں بلکہ آنتوں کی بیماریاں بھی زیادہ ہونے لگتی ہیں۔
اس کے استعمال سے کولیسٹرول لیول بڑھ جاتا، قبض، جگر کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور موٹاپا کسی حد تک بڑھ جاتا ہے۔٭ سفید آٹا گیسٹک خصوصیات رکھتا ہے جس سے تیزابیت کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
سفید آٹے میں فائبر نہ ہونے کی وجہ سے قبض، سر درد اور ڈپریشن جیسی بیماریاں بڑھ جاتی ہیں
میں نے مختلف مریضوں پر سفید آٹے کے جونقصانات نوٹ کیے ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں؛
معدے میں مستقل تیزابیت
جسم غذائیت کی کمی ہو جانا
شوگر یا ذیابیطس کا مرض لاحق ہو جانا
وزن میں لگاتار اضافہ ہوتے رہنا
مستقل قبض رہنا جس پر ادویات بے اثر ہوں
نظامِ انہظام کی تکالیف پیٹ پھولے رہنا گیس اپھارہ آنتوں کی سوزش
ہائی بلڈ پریشر
ماہرین صحت و ماہرین غذاہیت کہتے ہیں سفید آٹا بنیادی طور پر ریفائن آٹے کو کہا جاتا ہے جو انسانی معدے کے لیے محض سفید گلو سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ اس کو زیادہ کھانے سے نہ صرف معدے کے مسائل بڑھتے ہیں بلکہ آنتوں کی بیماریاں بھی زیادہ ہونے لگتی ہیں۔
اس کے استعمال سے کولیسٹرول لیول بڑھ جاتا، قبض، جگر کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور موٹاپا کسی حد تک بڑھ جاتا ہے۔٭ سفید آٹا گیسٹک خصوصیات رکھتا ہے جس سے تیزابیت کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
سفید آٹے میں فائبر نہ ہونے کی وجہ سے قبض، سر درد اور ڈپریشن جیسی بیماریاں بڑھ جاتی ہیں۔

چکی کے آٹے کے فوائد
ماہرین صحت و غذاہت کے مطابق چکی کے آٹے میں کیلیوریز، فائبر، فیٹ، کاربز، فاسفورس، پروٹین، کیلشیئم اور زنک پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے یہ سب سے زیادہ فائدہ مند آٹا سمجھا جاتا ہے۔ اس کو کھانے سے کھانا جلدی ہضم بھی ہو جاتا ہے اور میدے کے مسائل بھی جلدی ہی کنٹرول میں آ جاتے ہیں۔
چکی کا آٹا ہماری ہڈیاں مضبوط بنانے میں سب سے اہم کردار ادا کرتا ہے کیونکہ اس میں 60 فیصد سے زائد کیلشیئم اور مگنیشیم پایا جاتا ہے جو انسانی جسم کو مضبوط بنانے کا کام کرتا ہے
خون میں سے شوگر کی مقدار کو کنٹرول کرنے کے لئے یہ آٹا بہترین ہے کیونکہ اس میں زنک شامل ہوتا ہے جو انسولین کو بہتر بناتا ہے۔
اس میں نیاسین ہوتا ہے جو دماغ کو تیز کرنے اور یادداشت کو بڑھانے میں سب سے زیادہ مفید ہوتا ہے۔
اس میں وٹامن بی نائن جسم میں نئے سیلز کو بناتا ہے جو کہ ریڈ بلڈ سیلز کو مضبوط بناتے اور خون کو ڈی این اے کی تبدیلیوں سے بچانے میں مدد دیتے ہیں۔لیکن چکی کا یہ آٹا بازاری آٹے کی طرح بالکل باریک نہ پسوایا جائے، اگر میدے کی طرح باریک پسوا لیا گیا تو درج ذیل فوائد سے محرومی یقینی ہے۔ اسی طرح اس کے چھانس کو بھی نہ نکالا جائے۔
ڈاکٹر محمد شبیر جنجوعہ نورین ہسپتال اسلام آباد

برائیو فائلم  پتھر چٹ اور یوٹی آئیپیشاب کے نظام کے کسی بھی حصے میں ہونے والا انفیکشن  یوٹی آئی کہلاتا ہے پیشاب کے نظام...
28/05/2024

برائیو فائلم پتھر چٹ اور یوٹی آئی

پیشاب کے نظام کے کسی بھی حصے میں ہونے والا انفیکشن یوٹی آئی کہلاتا ہے
پیشاب کے نظام میں گردے، گردے کی نالیاں، مثانہ اور پیشاب کی نالی شامل ہیں یو ٹی آئی انفیکشن زیادہ تر لوئر ٹریک میں کامن ملتا ہے جس میں مثانہ اور پیشاب کی نالی حصہ شامل ہوتا ہے مردوں کی نسبت خواتین کو یو ٹی آئی ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے عام علامات میں پیشاب کرنے کی شدید حاجت جو ختم نہیں ہوتی پیشاب کرتے وقت جلن اور جلن دار درد کا احساس پیشاب کی بار بار حاجت قطرہ قطرہ پیشاب نکلنا ،پیشاب گدلا اور میلا نظر آئے اس کے ساتھ اگر گردے کی پتھری ہو تو اس کی درجہ زیل علامات ہوتی ہیں
پیشاب سرخ، چمکدار گلابی یا گدلارنگ کا نظر آتا ہے - پیشاب میں خون کی ملاوٹ ہوتی ہے تیز بو والا پیشاب ہوتا ہے ،گردوں کے مقام پر کمر میں شدید درد ،بخار اور جسم میں سردی محسوس ہو الٹی ، پیشاب کرتے ہوئے جلن کا احساس ہو۔
پیشاب کی نالی کی پرانی سوزش جس میں پیشاب کی نالی میں مستقل جلن دار درد رہے اور پیشاب کرنے سے پہلے اور بعد میں تکلیف بڑھ جائے لیکن پیشاب کرتے ہوئے آرام آ جائے ۔
ان سب تکلیفوں کی ایک بہترین دوا ہے برائیوفائلم۔ اس دوا کا تعارف مجھے میرے دوست ڈاکٹر شفقت شاہین صاحب نے کروایا تھا ان کا شاہین ہومیو کلینک کے نام سےمیلسی ضلع وہاڑی میں ہے پھر میں نے مختلف کتابوں اور نیٹ سے مدد لے کر وہ بوٹی ڈھونڈ نکالی جس سے یہ ہومیوپیتھک دوا تیار ہوتی ہے یہ بوٹی پتھر چٹ کے نام سے مشہور ہے اور میرے اپنے گارڈن میں باقی ہومیوپیتھک دیسی جڑی بوٹیوں کے ساتھ موجود ہے حکمت میں اس دوا کو مختلف تکالیفوں گردے کی پتھری دمہ لیکیوریا اور پھوڑوں کے لیے بیرونی استعمال کیا جاتا ہے ۔
ہومیوپیتھک مدر ٹنکچر کی صورت میں اس دوا کو میں نے پیشاب کی انفیکشن اور بڑی آنت کی سوزش میں مفید پایا ہے اس دوا کی طاقت مدر ٹنکچر کے تین سے پانچ قطرے اچھے رزلٹ دیتے ہیں
ڈاکٹر محمد شبیر جنجوعہ نورین ہسپتال اسلام آباد

26/05/2024

تھوجا.
تھوجا کو سمجھنے کے لیے اسے درجہ زیل حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے دماغی امراض میازم سائکوسس مزاج بلغمی مزاج ہائیڈروجنائزڈ مزاج انٹی مائکرو ارگینزم وویکسینزم ان سب کی تشریح کرتے ہیں تھوجا کی دماغی حالت مریض کو وہم خیال یا سوچ یا بات دماغ میں چمٹ جاتی ہے کہ وہ اسے سچ سمجھنے لگتا ہے جیسا کہ بستر پرلیٹے ہوہوئے اسے محسوس ہو کہ ساتھ کوئی لیٹا ہوا ہے اس مثال کو سامنے رکھ کر بعض مریض یہ کہتے ہیں کہ ان کے پیٹ میں بڑی رسولی ہے یا ان کمر پر دم اگ آئی ہے یا ان کے دماغ میں کیڑابلبلارہا ہے یا پیشاب نکل رہا ہے یا پیٹ میں جانور گھوم رہا ہے یا پاخانہ نکل گیا ہے میں نے مختلف لوگوں میں خیال چمتنے کے مختلف مشاہدے کیے ہیں ایک بوڑھی عورت کے پیت میں رسولی تھی مگر اس کے دماغ میں یہ بات چمٹ گئی تھی کہ اس کے پیٹ میں بچہ ہے ایک لرکا عمر بمشکل ۲۰ سال اسے وہم تھا کہ پیشاب کی نالی میں سوراخ سے پیشاب ٹپک رہا ہے ایک اماں تھی وہ ہر ہفتے بعد آ کر کیروں کی دوا مانگتی کہ اس کے دماغ میں کیڑا ہے جو ناک سے باہر نکل رہا ہے لیکن ان دنوں ایک شخص میرے پاس آتا رہا اس کے بقول جب وہ سوتا ہے توکوئی آدمی اس کے تکیے سے موبائل نکالنا چاہتا ہے تکیہ ہلنے سے اس کی آنکھ کھل جاتی ہے حالانکہ دروانے بند ہوتے ہیں لیکن اسے محسوس ہوتا ہے کہ کوئی آدمی ہے تھوجا کی دماغی حالت اناکاردئم سے مختلف یوں ہوتی ہے کہ اناخارڈئم میں ایک شخص کو مختلف وہم ڈر خوف وہ انڈیشے ہوتے ہیں مگر تھوجا کے مریض کو صرف ایک وہم ہوتا ہے اور وہ ہی اس کے دماغ سے ثمٹ جاتا ہے اسی طرح سفلینم سے مختلف یوں ہوتی ہے کہ سفلینم میں مریض جو وہم پالتا ہے اسے جان چھرانے کے لیے عمل بھی کرتا ہے اور ارجنٹم نئٹ سے بھی یوں مختلف ہوتی ہے کہ وہ ان خیالت سے جان چھڑانے کی کوشش کرتا ہے لیکن ارسینک میں وہ اسی وہم میں زندگی گزار جاتا ہے اس لیے او سی ڈی کی مختلف حالتوں کی مختلف ادویات ہوتی ہیں ان میں تھوجا کی خاص بات کہ اس کے دماغ میں جو خیال چمت جاتا ہے وہ اسے سچ سمجھ کر عمل کرتا ہے البتہ ؑجو لوگ عامل بننے کی کوشش کرتے ہین وہ کہتے ہیں کہ ان کا جسم اور روح الگ ہیں یا جو مذہبی لوگ ہوتے ہیں ان مین بعض یہ کہتے ہیں کہ جسم روح الگ ہیں میرے ایک عام دوست تھے وہ فوت بھی ہوگئے وہ کہتے تھے میں اپنی روح سے باتیں کرتا ہوں۔۔میازم سائکوسس مزاج مریض میرے تجربے کے مطابق سائکوسس میازم کی سب سے بڑی دوا تھوجا ہوتی ہے پہلے سائکوسس میازم کو سمجھ لیتے ہین سائکوسس میازم کے مریضوں یی جسمانی ساخت یعنی خلیہ ٹشوز عضو اور نظام متاثر ہوتے ہیں یعنی ایک ہی نظام کی اکائی سے لے کر پورا نظام متاثر ہوتا ہے مثال کے طور پر نظام ہضم کی بات کرتے ہیں تو منۃ سے لے کر مقعد تک پوری نالی متاثر ہوجاتی ہے اگر پیشاب کے نضام کی بات کریں تو گردوں سے لے ر مپیشاب کی نالی تک پورا سسٹم متاثر ہوتا ہے یہ میرا زاتی نظریہ ہے کہ سائکوسس میازم میں فنکشنل علامات کے ساتھ ساتھ اسٹریکچرل علامات و نشانات یا عضو کی ہیت میں بھی تبدیلی آ جاتی ہے تو جسم کے ہر نظام میں ساختی تبدیلی اور اس تبدیلی کی وجہ سے نہ صرف اس نظام کی افعالی تبدیلی بلکی ساختی تبدیلی بھی پیدا ہو کر مستقل صحت کی خرابی اور نارمل زندگی گزارنے میں مستقل مشکلات کا سامنا کرنا پرتا ہے اس لیے اگر ہم سائکوسس میازم کے مریض کو یوں سمجھنا چاہتے ہیں تو یہ سمجھنا ہو گا کہ مریض مستقل ایسی تکالیف میں مبتلا ہے کہ اس کے جسم کے کسی نظام میں فعلی و عضویاتی خرابی کے باعث اس کی صحت کی خرابی سے اس کی زندگی کی روٹین بدل چکی ہے میازم پر پھر کبھی بات ہو گی مگر آج ہم تھوجا پر بات کرتے ہیں نظام ہضم ہو نظام بول نظام اور نطام تولید تینوں متاثر ہوتے ہیں میں نے آج تک تھوجا کے سائکوسس میازم کے جتنے بھی مریض دیکھے ہیں ان میں چار باتیں کامن تھی دماغی مسائل ہاضمے کے مسائل جنس وپیشاب کے مسائل جو ہومیوپیتھ سائکوسس کو مسوں کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں تھوجا ان کے ہاتھ سے نکل جاتی ہے وجہ میں سائکوسس کے مریضوں کو ان کے بچپن سے ان پر نظر رکھتا ہوں اس لیے مسے سائکوسس کی اخری طاہر ہونے والی نشانی ہوتی ہے پہلی نہیں مسوں کے نام پر تھوجا دینا ایسا ہے جیسے ہر سر درد کے لیے ڈسپرین دینا اور ڈسپرین کو کچھ نہ سمجھا حالنکہ دسپرین کولیکٹل کینسر تک کنٹرول کرنے کی دوا ہے یعنی ہم ایک اہم دوا کو کی عام تکلیف کے ساتھ جوڑ دیتے جس کی وجہ سے اس کی اہمیت نہیں رہتی اور افادیت اوجھل ہو جاتی ہے۔۔۔اب سائکوسسز کو فائنل کرتے ہیں تھوجا کے سائکوسز مزاج مریض معدہ چھوٹی آنت اور بری آنت کی مختلف تکالیفوں مین مستقل مبتلا رہتے ہین اور ان لوگوں کو ان تکالیفون سے جان ثھرانی مشکل ہو جاتی ہے اس کی سب سے بڑی وجہ پیت اور آنتوں مین ماھول بدل جاتا ہے یعنی ان لوگوں کی آنتوں کے مفید بیکتیریا کا مقابل نقصان دہ بیکتیریا کی افزائش زیادہ تیز ہونے کے باعث انتین ایسی تکلیفوں کی مستقل اماج گاہ بن جاتی ہیں جن سے کسی طرح کسی بھی دوا سے جان چھرانا مشکل ہو جاتا ہے مریض ہر طرح کی ادویات استعمال کرنے کے باوجود ان تکالیفوں سے جان چھڑا نہیں پاتے چونکہ یہ ادوا انٹی مائکرووگزم ہے تو ایسے وہ مریض جن کو مستقل اپھارہ پیٹ مین گیس پیٹ میں خصوصا لیٹے ہوئے اور رات کو گیس ادھر سے ادھر پھرنے اور اس کی آواز مھسوس ہو پیت مین گرگڑاہٹ اور آوازین خصوصا کنواری لرکیوں میں ،إمحسوس ہو کہ پیٹ میں کوئی جانوار یا زندہ چیش ادھر سے ادھر جا رہی ہے ایسے مرضوں کو تازہ خوراک کی کوشبو سے نفرت ہوتی ہے حتکہ پراٹھے کی خوشبو اور چاہیے کی خوشبو بھی بری لگتی ہے ترکاری وغیرہ کی خشبو بھی ناپسند ہوتی ہے تھوجا کے مریضوں کے معدے کی تکلیف کی خاص علامات یہ ہیں کھانا کھانے کے فوری بعد معدے میں درد اپھارہ اور ڈکار کھانے کے بعد پیاس لیکن کچا پیاز کھانے کے بعد معدے اور پیٹ کی تمام تکالیف میں اضافہ ساتھ منہ کا زائقہ ہی بگڑ جائے ساتھ پیٹ کچا کچا محسوس ہو البتہ ریکٹم کی سوزش کی بہترین دوا ہے ویسے ہی جیسے مثانے کی سوزش کی بہتین دوا ہے لیکن جن لوگوں کو ریکتم کی سوزش ہوتی ہے تھوجا مین ان لوگوں کو مثانے کی بھی سوزش ہوتی ہے۔۔۔تو سائکوسس کو سمجھنے کے لیے مسوں کو سمجھنا ضروری نہیں ہوتا نیترم سلف کے قریب قریب یہ دوا ہائیڈروجنائزڈ مزاج سائکوسس مزاج اور بلغمی مزاج رکھتی ہے اس لیے اس دوا کے مزاج صرف مسے نہیں ہوتے اور مسے صرف سائکوسز مین ہی نہیں سورا کے بھی ہوتے ہیںلیکن میں میازم کو اس نظر سے نہیں دیکھتا بلکہ پیتھالوجی کی بنیاد پر میرا خیال ہے کہ جب جسم کے ٹشوز عضو اور نظام کی ساخت میں بنیادی تبدیلی آ جائے فعل و ساخت بدل جائیں مگر بیگاڑ اور ناکارہ پن نہ ہو جائے تو یہ سائکوسسز میازم ہوتا ہے یوں یہ بات خوش ائن ہے کہ تھوجا کی علامات کے مریض کی بیماری سے چھٹکارہ ممکن ہوتا ہے بشرطہ کہ مریض کی خوراک و رہن سہن میں بنیادی تبدیلیاں پیدا کی جائیں ورنہ تھوجا بھی ناکام رہتی ہے یہ واحد دوا ہے جسے اگر ہم کامیاب کرنا چاہتے ہین تو اس کے مزاجی مریضوں کی عادات بدلنی ہوں گی ورنہ ناکامی ہی ملتی ہے۔۔۔آج کا ٹاپک تھوجاتھوجا کو سمجھنے کے لیے اسے درجہ زیل حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے دماغی امراض میازم سائکوسس مزاج بلغمی مزاجہائیڈروجنائزڈ مزاجانٹی مائکرو ارگینزم وویکسینزمان سب کی تشریح کرتے ہیں تھوجا کی دماغی حالت مریض کو وہم خیال یا سوچ یا بات دماغ میں چمٹ جاتی ہے کہ وہ اسے سچ سمجھنے لگتا ہے جیسا کہ بستر پرلیٹے ہوہوئے اسے محسوس ہو کہ ساتھ کوئی لیٹا ہوا ہے اس مثال کو سامنے رکھ کر بعض مریض یہ کہتے ہیں کہ ان کے پیٹ میں بڑی رسولی ہے یا ان کمر پر دم اگ آئی ہے یا ان کے دماغ میں کیڑابلبلارہا ہے یا پیشاب نکل رہا ہے یا پیٹ میں جانور گھوم رہا ہے یا پاخانہ نکل گیا ہے میں نے مختلف لوگوں میں خیال چمتنے کے مختلف مشاہدے کیے ہیں ایک بوڑھی عورت کے پیت میں رسولی تھی مگر اس کے دماغ میں یہ بات چمٹ گئی تھی کہ اس کے پیٹ میں بچہ ہے ایک لرکا عمر بمشکل ۲۰ سال اسے وہم تھا کہ پیشاب کی نالی میں سوراخ سے پیشاب ٹپک رہا ہے ایک اماں تھی وہ ہر ہفتے بعد آ کر کیروں کی دوا مانگتی کہ اس کے دماغ میں کیڑا ہے جو ناک سے باہر نکل رہا ہے لیکن ان دنوں ایک شخص میرے پاس آتا رہا اس کے بقول جب وہ سوتا ہے توکوئی آدمی اس کے تکیے سے موبائل نکالنا چاہتا ہے تکیہ ہلنے سے اس کی آنکھ کھل جاتی ہے حالانکہ دروانے بند ہوتے ہیں لیکن اسے محسوس ہوتا ہے کہ کوئی آدمی ہے۔۔۔تھوجاایسا ہے کہ تھوجا کا ایک پہلو ہر ہومیوپیتھ کی نضر سے اوجھل ہو چکا ہے اور ہم فائدہ نہیں اٹھا رہے تھوجا کو مسوں کے نام سے جوڑنے کے بعد اس کی افایت ہی ختم ہو گئی ہے جس کا مجھے افسوس ہوتا ہے یہ ان مریضوں کی بہترین دوا ہے جو بلغمی مزاج رکھتے ہیں یا ہائیڈروجنائزڈ مزاج رکھتے ہیں اس بلغمی مزاج اور ہائڈروجنائزڈ مزاج کے مریض عموما مترکہ ہوتے ہیں یوں یہ جگر اور پھیپھڑوں کے ساتھ ساتھ ناک اور گلے کی بڑی مفید دوا بن گئی ہے دمہ کی بہترین دوا ہے بلغمی دمہ کصوصا بچوں کا دمہ جہاں نیٹرم سلف دوا ہوتی ہے وہاں یہ دوا اس کی معاون دوا بن جاتی ہے معدے کی تکلیف کے ساتھ سانس کی تکلیف ہو اور مریض کو سرد ہوا ٹھنڈے پانی اور رات آنے سے تکلیف میں اضافہ ہو اچھا جی ایسے لوگ جن کی آواز پرانی ہھٹی ہو ہومریض کو محسوس ہو کہ گلے میں گوست کی رسولی ہے گلا بار بار صاف کرنے کی کوشش گلے میں بلغم گلے کی پرانی کھانسی نگلنے میں دقت لیکن یہ سب تکالیف پرانی ہو چکی ہوں تو تھوجا انتہائی مفید ثابت ہوتی ہے یعنی فیرنکس لینرنکس اور ووکل کارڈ میں اوور گروتھ کی بہترین دوا ہے ڈاکٹر محد شبیر جنجوعہ نورین ہسپتال اسلام آباد

25/05/2024

اوسٹیو ارتھرائٹس جوڑوں کے درد کی سب سے عام شکل ہے، ۔ ذیادہ تر لوگ اس بیماری سے متاثر ہوتے ہیں اسی لیے اس بیماری اور اس کی اسٹیجز سمجھنا ضروری ہوتا ہے اسٹیو ارتھرائیٹس میں حفاظتی کارٹلیج جو ہڈیوں کے سروں پر ہوتا ہے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ختم ہوجاتا ہے۔ اگرچہ اوسٹیو ارتھرائٹس کسی بھی جوڑ کو نقصان پہنچا سکتا ہے، لیکن یہ خرابی عام طور پر ہاتھوں، کہنیوں ،گھٹنوں، کولہوں اور ریڑھ کی ہڈی کے جوڑوں کو متاثر کرتی ہے
اوسٹیو ارتھرائیٹس کی علامات و ادویات
کارٹیلج کے رف ہونے کے باعث جوڑ میں درد ،کھنچاو ،سوزش کے لیے ۔ آرنیکا ،برائی اونیا ،کالچیکم،بیلنس پرنس،بیلا ڈونا ،رسٹاکس،
کارٹیلج بگڑ جائے ۔گریفائیٹس ،کلیریا فلور،
کارٹیلج کے ساتھ ہڈی متاثر ۔کلکیریا کارب،ارجنٹم میٹ ،آرم میٹ،کلکیریا فلور،کلکیریا فاس
جوڑوں کے لگمنٹ ٹنڈن میں اکڑاو سوجن سختی ۔، گوائئکم ، گریفائیٹس
ہڈی لگمنٹ ٹنڈن متاثر۔ ،کاسٹیکم ، گوائکم، روٹا
سائینوویل ممبرین متاثر۔ برائی اونیا ،کالچیکم ،اسٹیلیریا میڈیا
جوڑوں اور ان پٹھوں کے اعصابی دردوں کے لیے ہایپیریکم
ہر طرح کے درد کے لیے ۔ریمینس کلف
یہ تحریر ان ہومیو پیتھ پریکنٹیشنر کے لیے مفید ہے جو مرض کی وجوہات ،پیتھالوجی کمپلیکیشنز اور ادویات کے فزیوپیتھالوجیکل ایکشن کے علم پر عبور رکھتے ہیں
تحریر تحقیق و تجربات ڈاکٹر شبیر جنجوعہ نورین ہسپتال اسلام آباد

24/05/2024

یوکلپٹس
یہ ایک بہترین دوا ہے روز مرہ کے کام کی دوا ہے منہ پکنے ،دانت مسوڑے ،گلا پکنے و آواز کی بندش سے لے کر جلد اور جوڑوں کی سوزش تک بیروں طور پر بہترین قدرتی انٹی سیپٹک دوا مانی جاتی ہے لیکن یہاں پر ہی بس نہیں اندرونی طور پر بہترین انٹی بائیوٹک خصوصیات رکھتی ہے اور ہرطرح کے جراثیم مارے کی صلاحیت رکھتی ہے
میرے استعمال میں
نزلہ زکام کے بعد ناک کان دماغ بند محسوس ہونا سائنوسائٹس
ناک اور نیذوفیرنکس سے بلغمی آخراج کیرا گرنا
منہ ٹانسلز اور اوروفیرنکس کے چھالے بیرونی و اندرونی استعمال
شدید کھانسی دمہ سانس کی دقت سانس کی تنگی سانس کا بند ہو جانا ساون میں سانس کی تکلیف بلغمی اخراج اور بوڑھوں مین سانس کی نالیوں کا پھیل جانا
معدے کی سوزش انفیکشن کے باعث خون ملی الٹی یا معدے کا کینسر
جراثیمی دست یا خون ملے پیچش یا ٹائفائیڈ کے دست
گردے کی سوزش پیشاب مین خون ( اس کے ساتھ ٹیربینٹھ مفید) گردے میں پیپ(اس کے ساتھ چائنا سلف مفید) پیشاب میں خون پیپ آئے (اس کے ساتھ مرک کار مفید) مثانے کی سوزش مثانے میں لگاتار مڑور اور پیشاب کی شدید حاجت( اس کے ساتھ کلیمٹس مفید) ویسے میں نے پراسٹیٹ کے بوڑھے مریضوں پر اس دوا کو اکیلا بھی آزمایا ہے شاندار رزلٹ ملتے ہیں لیکن پیشاب کی رپورٹ میں پس اور اپیتھیلیل سیل آ رہے ہوں جلن دار سوزاک جس میں پیشاب کی نالی میں شدید جلن ہو اس کے ساتھ کیمفر دوا مفید رہتی ہے
جوڑوں کی سوزش میں یہ دوا جوڑوں پر لگانے سے فائدہ ملتا ہے
لیکن
بخار ہر طرح کا بخار ٹائیفائیڈ بخار مین بپٹیشیا کے ساتھ ڈینگی میں یوپیٹورئیم کے ساتھ ملریا میں چائنا کے ساتھ نزلہ زکام کھانسی میں ایونا سٹائیواہ کے ساتھ مفید تر ثابت ہوئی ہے
یعنی
کسی بھی بیماری میں جہاں انفیکشن بلغمی آخراج ہو ساتھ بخار یہ دوا لازمی دیں کبھی مایوس نہیں ہوں گے
کرونا اور ڈینگی بخار میں یہ دوا میرا اہم ہتھیار ہوتا ہےملیریا اور ٹائیفائیڈ بخار میں بھی انتہائی مفید دوا ہے
میں صرف مدر ٹنکچر ہی استعمال کرتا ہوں
ڈوز ۔ مریض کے وزن کے حساب سے تیس کلو ۵ قظرے چالیس کلو ۱۰ قطرے ۵۰ کلو ۱۵ قطرے ۶۰ کلو ۲۰ قطرے جوں جوں زیادہ وزن والے مریض آتے ہیں ان کی ڈوز بڑھتی جاتی ہے ئعنی دوا کی مقدار
بچوں میں دو قطرے مفید ہیں
شوگر اور جگر کے مریضوں کی جلدی بیماریوں کی بہترین دوا ہے اس کے ساتھ اذاڈیکا انڈیکا مفید
نزلہ زکام کھانسی ناک بند ہو یا جلن دار خراج ابلتے پانی میں چند قطرے ڈال کر بھاپ لینے سے فوری فائدہ ملتا ہے اسی طرح گنے ب کے شدید درد اور سوزش و چوٹ کے بعد سوجن میں اس کی بھاب دینا بھی فائدہ مند
ڈاکٹر محمد شبیر جنجوعہ نورین ہسپتال اسلام آباد

Address

Nai Abadi, Bhara Kahu, Islamabad

44000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr. Shabbir Janjua Noreen Hospital posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr. Shabbir Janjua Noreen Hospital:

  • Want your practice to be the top-listed Clinic?

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram