Astronomy Lover

Astronomy Lover Astronomy Lover �

The United States leads lunar exploration with 44 missions, far surpassing other nations in both historical and ongoing ...
04/26/2026

The United States leads lunar exploration with 44 missions, far surpassing other nations in both historical and ongoing efforts. The former USSR follows with 22 missions, reflecting its major role during the early space race, while China has emerged as a modern leader with 10 missions. Other countries have also contributed, including Japan with 6 missions, India with 3, and the European Union with 2, showing a broader global involvement in Moon exploration. These numbers highlight the shift from a two-nation competition to a more internationally shared pursuit of space exploration. Overall, lunar missions continue to grow as more countries invest in reaching and studying the Moon. Source: OMG space, Statista Research






Earth from Orion Space Capsule (Artemis II)🌎
04/04/2026

Earth from Orion Space Capsule (Artemis II)🌎

Allah 💖❤️ Astronomy Lover
09/08/2024

Allah 💖❤️

Astronomy Lover

09/03/2024

‏سعودی عرب میں خانہ کعبہ کے اوپر ایک حیران کن آسمانی منظر دیکھنے میں آیا۔
ایک پاکستانی کی خوبصورت ویڈیو

تاریخ کو محفوظ کریں، یہ تاریخی ہو جائے گا!  8 اپریل 2024 کو مکمل سورج گرہن نظر آئے گا اور دن رات میں بدل جائے گا۔  درجہ ...
03/27/2024

تاریخ کو محفوظ کریں، یہ تاریخی ہو جائے گا! 8 اپریل 2024 کو مکمل سورج گرہن نظر آئے گا اور دن رات میں بدل جائے گا۔ درجہ حرارت گر جائے گا، جانور کیچڑ سے بھر جائیں گے اور اندھیرا سورج کی روشنی کو رات میں بدل دے گا۔ ہم 375 سال تک اس طرح کا دوسرا مکمل سورج گرہن نہیں دیکھیں گے۔💔😥

آج سے چار سو سال پہلے ہمیں لگتا تھا کہ ہماری کائنات میں صرف زمین ہی ایک سیارہ ہے لیکن بعدازاں ہمیں معلوم ہوا کہ ہمارے نظ...
12/23/2023

آج سے چار سو سال پہلے ہمیں لگتا تھا کہ ہماری کائنات میں صرف زمین ہی ایک سیارہ ہے لیکن بعدازاں ہمیں معلوم ہوا کہ ہمارے نظام شمسی کے اندر زمین کے علاوہ دیگر سات سیارے بھی موجود ہیں۔ آج ہم جانتے ہیں کہ کائنات میں کھربوں کھربوں ستارے موجود ہیں اور ہر ستارے کے گرد سیارے موجود ہیں یعنی کائنات میں زمین اکیلی نہیں ہے۔ اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ہم کائنات میں جہاں بھی جھانکتے ہیں وہاں وہ تمام عناصر بکھرے پڑے ہیں جو زندگی کے لیے ضروری ہوتے ہیں لیکن ہمیں زندگی دکھائی نہیں دے رہی۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ کسی شہر میں داخل ہوں، وہاں بازار، سکولز، ہسپتال تو موجود ہوں مگر کوئی انسان نہ دکھائی دے رہا ہو، آپ یقیناً متجسس ہونگے کہ ایسا کیوں ہے؟ بالکل یہی صورتحال ہمارے ساتھ کائنات میں درپیش ہے۔ کیا کسی دوسرے سیارے پر زندگی ہوسکتی ہے؟ بالکل ہوسکتی ہے لیکن کیا وہ زندگی انسانوں جیسی ہوگی؟ اس سوال کو ہم نے کائناتی ڈسکشن کی حالیہ قسط میں تفصیلی ڈسکس کیا ہے۔ ویڈیو دیکھ کر کمنٹ بکس میں اپنی قیمتی آراء سے ہمیں آگاہ کیجیئے گا۔
Will we ever meet any Intelligent life or aliens in our universe - Kainaati Discussion Episode 29
https://youtu.be/kEboO-shnPA

Fifty-four years ago, a historic moment unfolded with one small step as Apollo 11 crewmembers marked humanity's first lu...
07/21/2023

Fifty-four years ago, a historic moment unfolded with one small step as Apollo 11 crewmembers marked humanity's first lunar landing.

Today, we honor that legacy by advancing toward our future goal: creating a sustainable human presence on the Moon through NASA Artemis.

🌔🌓🌒🌑🌘🌗🌖🌕

ہم نے جانا تو ہم نے یہ جاناجو نہیں ہے وہ خوبصورت ہے- جون ایلیاءکوہ سلیمان بلوچستان کی حسین وادی راڑہ شم سے آکاش کنگا، (د...
07/19/2023

ہم نے جانا تو ہم نے یہ جانا
جو نہیں ہے وہ خوبصورت ہے

- جون ایلیاء

کوہ سلیمان بلوچستان کی حسین وادی راڑہ شم سے آکاش کنگا، (دودھیائی کہکشاں ،Milkyway Galaxy) کا خوبصورت نظارہ،

البرٹ آئنسٹائنجرمن نژاد ماہر طبیعیات اور نظریہ اضافیت کا بانیالبرٹ آئنسٹائن (Albert Einstein)، بیسویں صدی کا سب سے بڑا ط...
07/19/2023

البرٹ آئنسٹائن
جرمن نژاد ماہر طبیعیات اور نظریہ اضافیت کا بانی
البرٹ آئنسٹائن (Albert Einstein)، بیسویں صدی کا سب سے بڑا طبیعیات دان سمجھا جاتا ہے۔ جرمنی کے شہر اولم میں 14 مارچ 1879ء کو پیدا ہوا۔ باپ کا نام ہرمین (Hermann Einstein) اور ماں کا نام پالین (Pauline Koch) تھا۔

سب جانتے ہیں یہ گروپ Hack ہو چکا ہے آپ ہمارا نیا گروپ Join کرلیں ۔👇
Science Group - سائنس گروپ

ابتدائی زندگی
آئنسٹائن کا خاندان جرمنی کے خوشحال یہودی النسل خاندانوں میں شمار ہوتا تھا۔ باپ کاروباری تھا مگر زیادہ کامیاب نہیں تھا۔ جب آئنسٹائن چھ برس کا تھا، یہ لوگ میونخ آ گئے۔ ابتدائی تعلیم ایک کاتھولک مدرسہ میں پائی۔ یہاں کا سخت ماحول اس بچے کو ناگوار گزرتا تھا۔ 1894ء میں آئنسٹائن کو بورڈنگ مدرسہ میں پیچھے چھوڑ کر، اس کا باپ کاروباری وجوہات کی بنا پر خاندان سمیت اٹلی منتقل ہو گیا۔ دسمبر 1894ء میں سولہ سال کی عمر میں تعلیم ادھوری چھوڑ کر آئنسٹائن (غالباً جرمن کی لازمی فوجی سروس کے خوف سے ) خود بھی اٹلی پہنچ گیا۔ وہاں پہنچ کر 1896ء میں اس نے جرمن شہریت چھوڑ دی۔ اکتوبر 1895ء میں سویٹزرلینڈ کے شہر زیورخ میں واقعہ یونیوسٹی ETH کے داخلہ کا امتحان دیا مگر ناکام رہا۔ استاد نے مشورہ دیا کہ اسکول کی تعلیم مکمل کرو، چنانچہ سویٹزرلینڈ کے شہر Aarau کے ایک اسکول میں پڑھائی کی۔ یہاں جس گھر میں قیام تھا، اس کے مالک کی بیٹی Marie سے شناسائی ہوئی۔ اگلے سال ETH کا داخلہ امتحان کامیاب کیا۔ اب اس نے ETH میں پڑھائی شروع کر دی۔ وہ اسکول استاد بننے کی پڑھائی کرنے لگا۔ اگست 1900ء میں امتحان ہوا، پانچ طالب علموں کے امتحان میں آئنسٹائن چوتھے نمبر پر آیا۔ پہلے تین کو ETH نے نوکری دے دی، مگر اسے اور پانچویں نمبر پر آنے والی ملیوا مارِک (Mileva Maric) کو نہیں۔ ملیوا کے ساتھ اس کا میل جول تھا اور وہ بعد میں آئنسٹائن کی پہلی بیوی بنی۔ ملیوا مسیحی تھی اور سربیا سے تعلق تھا۔ ملیوا اور آئنسٹائن کے درمیان میں 1897ء سے 1903ء تک کے خطوط کے تبادلہ سے تاریخ دانوں کو اس بارے معلومات ملی ہیں۔ ان خطوط میں ذاتی معاملات کے علاوہ فزکس کے مسائل پر بھی گفتگو ملتی ہے۔ فکرِ معاش کی وجہ سے آئنسٹائن شادی نہیں کر پا رہا تھا، مگر ملیوا حاملہ ہو گئی۔ 1902ء میں ایک لڑکی کو جنم دیا، مگر پالا نہیں۔ 1902ء میں ہی آئنسٹائن کے والد کا انتقال ہو گیا۔ آئنسٹائن عارضی استاد کے طور پر مختلف جگہ کام کرتا رہا، حتٰی کہ جون 1902ء میں سوئٹزرلینڈ کے شہر برن کے patent دفتر میں نوکری مل گئی۔ 1901ء میں آئنسٹائن سویٹزرلینڈ کا شہری بھی بن گیا۔ جنوری 1903ء میں ملیوا سے شادی ہو گئی۔ پیٹنٹ دفتر میں کام کے دوران میں آئنسٹائن فزکس کے مسائل پر بھی تحقیق کرتا رہا اور اسی دوران میں اس نے اپنی زندگی کے عظیم تریں مقالات شائع کیے۔ کچھ محققین نے خیال ظاہر کیا ہے کہ آئنسٹائن کی تحقیق میں ملیوا مارِک بھی شریک تھی۔ یہ شبہات آئنسٹائن اور ملیوا کے خطوط سے پیدا ہوئے جن میں آئنسٹائن "ہمارے نظریے " کا ذکر کرتا ہے۔ اس کے علاوہ روسی سائنس دان Abraham Joffe نے مبینہ طور پر یہ بتایا کہ جب آئنسٹائن نے اپنے مقالے جریدہ Annalen der Physik کو بھیجے تو ان پر پیٹنٹ دفتر میں کام کرنے والے Einstien-Maric نامی کسی شخص کے دستخط تھے۔

1905ء، کارناموں کا سال
اس سال آئنسٹائن نے چار مشہور مقالے شائع کیے :

پہلا مقالہ جو مارچ1905 میں شائع ہوا وہ ضیا ء برقی اثر اورروشنی کی ہیئت کے بارے تھا۔ اس وقت تجرباتی ثبوتون کی بنیاد پر روشنی کو موج سمجھا جاتا تھا، مگر اس سے ضیاء برقی اثر کی تشریح کرنا ممکن نہ تھا۔ آئنسٹائن نے اس نظریے کو تقویت دی کہ روشنی کو توانائی کے چھوٹے چھوٹے کوانٹم نوریہ زرات (photons) پر مشتمل بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ کوانٹم نوریہ کا نظریہ سب سے پہلے میکس پلینک نے پیش کیا تھا۔
دوسرا مقالہ جو مئی 1905 میں شائع ہواوہ براؤنین حرکت (Brownian motion) کے ریاضی ماڈل پر مشتمل تھا۔ جس میں احصاء کا استعمال کرتے ہوئے سالمہ کی مائع میں حرکت کی تشریح کی گئی تھی۔ اس سے اس نظریہ کو عام کرنے میں مدد ملی کہ جوہر اور سالمہ کا وجود حقیقی ہوتا ہے۔
تیسرامقالہ جو جون 1905 میں شائع ہوا، خصوصی اضافیت (special theory of relativity) پر تھا۔ اس سے وقت اور فضاء(زمان و مکاں) کو علاحدہ علاحدہ تصور کرنے کی بجائے "وقت۔ فضاء" یا "زمان و مکاں " (space-time) کا نظریہ سامنے آیا۔ پتہ چلا کہ اگر کوئی چیز زیادہ (مگر یکساں) سمتار سے حرکت کر رہی ہو، تو جس مشاہد کے حوالے سے حرکت ہو رہی ہو گی، اس مشاہد کو اس چیز کی کمیت زیادہ، لمبائی کم اور وقت آہستہ گزرتا، نظر آئے گا۔ البتہ روشنی کی رفتار ہر کو ایک ہی (تقریباً 3×108metres/second{\displaystyle \ 3\times 10^{8}metres/second}{\displaystyle \ 3\times 10^{8}metres/second}) نظر آئے گی۔ اور یہ بھی کہ کوئی مادہ چیز کو تیز رفتار کرتے ہوئے روشنی کی رفتار تک نہیں پہنچایا جا سکتا۔ اور یکساں (uniform) سمتار سے سفر کرنے والے جمودی حوالہ جاتی قالب (inertial frame of reference) میں کوئی ایسا تجربہ ممکن نہیں جس سے جمودی حوالہ جاتی قالب میں موجود مشاہد یہ معلوم کر سکے کہ وہ یکساں سمتار سے سفر کر رہا ہے یا "ساکن" ہے۔ واضح رہے کہ اضافیت کا نظریہ اس سے پہلے ہنڈرک لورنٹز اور Henri Poincare پیش کر چکے تھے۔ آئنسٹائن نے یہ اضافہ کیا کہ ایسا تجربہ ناممکن ہونے کا اطلاق Maxwell کی برقناطیسی موجوں پر بھی ہوتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں طیبیعات کے قوانین تمام غیر اسراعی (non-accelerated) جمودی حوالہ جاتی قالب میں یکساں لاگو ہوتے ہیں۔
چوتھا مقالہ جو ستمبر 1905ء میں شائع ہوا۔ طبیعیات کی مشہور ترین مساوات E=mc2{\displaystyle E=mc^{2}}{\displaystyle E=mc^{2}} پر مشتمل تھا، جس میں مادہ اور توانائی کا آپس میں تبدیل ممکن ہونے کا بتایا گیا تھا۔ حال میں ایک محقق نے رائے دی ہے کہ یہ مساوات ایک اطالوی نے آئنسٹائن سے کچھ سال پہلے شائع کی تھی، اگرچہ اضافیت نظریہ کے سیاق و سباق میں نہیں.
مضمون کا دوسرا حصہ بھی ہے
جاری ہے۔

Address

Houston, TX
77059-4612

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Astronomy Lover posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Featured

Share