Epi vaccination uc trahia

  • Home
  • Epi vaccination uc trahia

Epi vaccination uc trahia Immunization saves lives. It protects you, your family and your community.

19تا 25 ستمبر 2022
18/09/2022

19تا 25 ستمبر 2022

01/09/2022
01/08/2021

*بہت سارے افراد کنفیوژن کے شکار ہیں کہ کرونا کی ویکسینیشن کن لوگوں کو کرنا چاہیے اور کن لوگوں کو نہیں کرنا چاہیے اور ویکسینیشن کے بعد لوگ کس حد تک بیماری سے محفوظ رہ سکتے ہیں، لہزا وہ تمام ویکسین جو اس وقت لگائے جا رہے ہیں آن کی تفصیل کو شئیر کیا جا رہا ہے تاکہ لوگوں کے معلومات میں اضافہ ہو اور ویکسین کے حوالے سے غلط فہمیاں دور ہوں۔*

sinopharm سائنوفارم

سائنوفارم ویکسین بیجینگ انسٹیٹیوٹ آف بائیولاجیکل پروڈکٹس (BBIBP) کی جانب سے تیار کی گئی ہے جو چائنا نیشنل بائیوٹیک گروپ (CNBG) کا ذیلی ادارہ ہے۔ BBIBP-CorV ویکسین جو سائنوفارم کے نام سے مقبول ہے کورونا وائرس کی ایک کیمیکلی اِن ایکٹیویٹیڈ ہول وائرس ویکسین ہے۔ سائنوفارم کے اعلان کے مطابق اس ویکسین کی افادیت 79.34 فیصد ہے۔
اس ویکسین کے فیز 3 ٹرائل میں 60 ہزار سے زائد افراد شامل تھے اور یہ ٹرائل دسمبر 2020ء کے اواخر میں ارجنٹینا، بحرین، مصر، مراکش، پاکستان،پیرو اور متحدہ عرب امرات میں کیے گئے۔ BBIBP-CorV کی ٹیکنالوجی کورونا ویک (سائنوویک) اور BBV152 (جسے بھارت بائیو ٹیک) نے تیار کیا ہے سے مماثلت رکھتی ہے اور اس میں کورونا کے لیے اِن ایکٹیویٹیڈ وائرس ویکسینز کا استعمال کیا گیا ہے۔
7 مئی 2021ء کو ڈبلیو ایچ او نے سائنو فارم کی ویکسین کو ہنگامی استعمال کی فہرست میں شامل کردیا اور یوں اس ویکسین کی عالمی سطح پر استعمال کی اجازت مل گئی۔
صحت کی اشیا تک رسائی کے حوالے سے ڈبلیو ایچ او کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر مارینگیلا سمیونو کا کہنا تھا کہ ’اس ویکسین کی فراہمی سے ان ممالک میں ویکسین تک رسائی میں آسانی ہوگی جو اپنے مزدوروں اور آبادی کو کورونا کے خطرے سے بچانا چاہتے ہیں۔ ہم ویکسین تیار کرنے والوں سے کہتے ہیں کہ وہ کو ویکس میں شامل ہوں اور ویکسین کی منصفانہ تقسیم کا حصہ بنیں‘۔
ڈبلیو ایچ او کی ویب سائٹ پر موجود ایک رپورٹ کے مطابق اس ویکسین کی جانچ کے عمل کے دوران ڈبلیو ایچ او کی جانب سے ویکسین تیار کرنے والی فیکٹری کا دورہ بھی کیا گیا تھا۔

کن افراد کو سائنوفارم ویکسین لگوانی چاہیے

18 سال اور اس سے زائد عمر کے افراد۔

وہ افراد جنہیں موٹاپا، دل کے امراض، سانس کی بیماریاں اور ذیابطیس سمیت ایسی بیماریاں ہوں جو کورونا کا خطرہ بڑھادیتی ہوں ان کے لیے ویکسینیشن تجویز کی جاتی ہے۔

حاملہ اور بچوں کو دودھ پلانے والی خواتین۔

کن افراد کو سائنو فارم کی ویکسین نہیں لگوانی چاہیے

وہ افراد جنہیں ویکسین لگوانے کے وقت بخار ہو (ایسے افراد بیماری کے بہتر ہونے بعد ویکسین لگواسکتے ہیں).
وہ مریض جن میں کورونا وائرس ایکٹو یعنی علامات موجود ہوں ۔
البتہ جن افراد میں کورونا کی شدت نہ ہو وہ آئسولیشن کا عرصہ گزار کر ویکسین لگوا سکتے ہیں۔
جن افراد میں کورونا کی شدت زیادہ ہو وہ خطرے سے باہر آکر ویکسین لگوا سکتے ہیں۔
ایسے افراد جنہیں شارٹ ٹرم امیونو سپریسیو ادویات دی گئی ہوں وہ ادویات کا استعمال مکمل ہونے کے بعد بھی 28 دن انتظار کریں اور پھر لگوائیں۔
طویل عرصے سے مدافعتی نظام کی کمزوری کا شکار افراد بھی یہ ویکسین لگوا سکتے ہیں تاہم ان میں اس ویکسین کی افادیت کم ہوسکتی ہے۔
جن افراد کے اعضا کی پیوند کاری ہوئی ہو وہ پیوندکاری کے 3 ماہ بعد ویکسین لگواسکتے ہیں۔
جن افراد کی کیمو تھراپی ہوئی ہو وہ کیمو تھراپی کے 28 دن بعد ویکسین لگوا سکتے ہیں

sinovac سائنو ویک

چینی کمپنی سائنو ویک بائیو ٹیک کی تیار کردہ کورونا ویکسین کورونا ویک کو پاکستان میں سائنو ویک کہا جاتا ہے۔ یہ کورونا کی اِن ایکٹیویٹڈ وائرس ویکسین ہے۔ اس کے فیز 3 ٹرائل برازیل، چلی، انڈونیشیا، فلپائن اور ترکی میں ہوئے۔ اس کی ٹیکنالوجی بھی سائنو فارم، BBV152 اور دیگر اِن ایکٹیویٹڈ ویکسینز جیسی ہی ہے۔
چلی میں ہونے والی تحقیق کے مطابق یہ ویکسین انفیکشن سے محفوظ رکھنے میں 67 فیصد مؤثر ہے۔ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق چلی کی حکومت کا کہنا تھا کہ ’کورونا ویک ویکسین مریض کو اسپتال میں داخل ہونے سے بچانے میں 85 فیصد اور اموات کو روکنے میں 80 فیصد مؤثر ہے‘۔
ڈبلیو ایچ او کے اسٹریٹیجک ایڈوائزری گروپ آف ایکسپرٹس (SAGE) کے آزاد ماہرین نے چین، برازیل، ترکی، انڈونیشیا اور چلی میں اس ویکسین کے فیز 3 ٹرائل کی جانچ کی‘۔

کن افراد کو کورونا ویک(سائنو ویک) ویکسین لگوانی چاہیے

18 سال سے زیادہ عمر کے افراد۔

وہ افراد جنہیں موٹاپا، دل کے امراض، سانس کی بیماریاں اور ذیابطیس سمیت ایسی بیماریاں ہوں جو کورونا کا خطرہ بڑھا دیتی ہوں ان کے لیے ویکسینیشن تجویز کی جاتی ہے۔
حاملہ اور بچوں کو دودھ پلانے والی خواتین۔

کن افراد کو کورونا ویک ویکسین نہیں لگوانی چاہیے

18 سال سے کم عمر افراد۔ ان افراد میں کورونا ویک کی افادیت اور اس کا محفوظ ہونا ابھی ثابت نہیں ہوا ہے۔
وہ افراد جنہیں کورونا ویک یا کسی دیگر اِن اکٹیویٹڈ ویکسین سے، یا کورونا ویک کے کسی جز (ایکٹو یا ان ایکٹو اجزا یا تیاری میں شامل کسی دوسری چیز) سے الرجی ہو۔
ماضی میں ویکسین سے شدید الرجک ری ایکشن ہوا ہو (جیسے کہ اکیوٹ اینا فلیکسس، انجیوڈیما، ڈسپنیا وغیرہ)۔
شدید اعصابی بیماریوں (جیسے ٹرانسورس مائیلائٹس، گیلین-بیری سنڈروم، ڈی ایمیلینیٹنگ امراض وغیرہ) کے حامل افراد۔

Sputnik v اسپٹنک

روس کے گمالیا ریسرچ انسٹیٹیوٹ آف ایپیڈیمالجی اینڈ مائیکرو بائیولاجی کی تیار کردہ اسپٹنک V کورونا کی ایک اڈینووائرس ویکٹر ویکسین ہے۔ یہ ویکسین وصول کنندہ کے خلیوں میں مطلوبہ انٹیجن کی جنیٹک مٹیریل کوڈنگ پہنچانے کے لیے تبدیل شدہ وائرل ویکٹر کا استعمال کرتی ہے۔ دی لینسٹ میں اس ویکسین کے ٹرائل کے حوالے سے شائع ہونے والی ایک عبوری رپورٹ میں غیر معمولی مضر اثرات کے بغیر اس کی افادیت کو 91.6 فیصد بتایا گیا۔ دسمبر 2020ء میں روس، ارجنٹینا، بیلاروس، ہنگری، سربیا اور متحدہ عرب امارات نے اس ویکسن کے ہنگامی استعمال کی اجازت دی۔
ویکسین تیار کرنے والے ادارے کے مطابق یہ دنیا کی ان 3 ویکسینز میں سے ایک ہے جس کی افادیت 90 فیصد سے زیادہ ہے۔ اس ادارے کا کہنا ہے کہ ’اس ویکسین کی 91.6 فیصد افادیت 19 ہزار 866 رضاکاروں کے اعداد و شمار کے نتیجے میں سامنے آئی ہے ان رضاکاروں کو ویکسین کی دونوں خوراک یا پھر پلیسبو دیے گئے تھے۔ ان میں 78 کورونا کے مریض تھے‘۔
ڈبلیو ایچ او کے ماہرین نے یورپین میڈیکل ایجنسی کے ساتھ مل کر 10 مئی کو روس کی اسپٹنک V ویکسین کی جانچ کا دوسرا مرحلہ شروع کرنا تھا۔

کن افراد کو اسپٹنک V: ویکسین لگوانی چاہیے

18 سال اور اس سے زائد عمر کے افراد۔
وہ افراد جنہیں موٹاپا، دل کے امراض، سانس کی بیماریاں اور ذیابطیس سمیت ایسی بیماریاں ہوں جو کورونا کا خطرہ بڑھادیتی ہوں ان کے لیے ویکسینیشن تجویز کی جاتی ہے۔
حاملہ خواتین ڈاکٹر سے مشورے کے بعد ویکسین لگواسکتی ہیں۔ بچوں کو دودھ پلانے والی خواتین ویکسین لگوا سکتی ہیں۔

کن افراد کو اسپٹنک ویکسین نہیں لگوانی چاہیے

وہ افراد جنہیں ویکسین لگوانے کے وقت بخار ہو (ایسے افراد بیماری کے بہتر ہونے بعد ویکسین لگواسکتے ہیں)۔
وہ مریض جن میں کورونا وائرس ایکٹو ہو۔
جن افراد میں کورونا کی شدت نہ ہو وہ آئسولیشن کا عرصہ گزار کر ویکسین لگوا سکتے ہیں۔
جن افراد میں کورونا کی شدت زیادہ ہو وہ خطرے سے باہر آکر ویکسین لگوا سکتے ہیں۔
جن افراد کو ویکسین کی پہلی خوراک لگوانے کے بعد شدید منفی اثرات کا سامنا کرنا پڑا ہو وہ ویکسین کی دوسری خوراک نہ لگوائیں۔

پہلے سے موجود بیماری

جو لوگ اکیوٹ سیویئر فیبریل اِلنس کا شکار ہوں انہیں دیگر ویکسینز کی طرح اسپٹنک V ویکسین بھی نہیں لگانی چاہیے۔ تاہم زکام یا کم درجے کے بخار جیسے معمولی انفیکشن کی وجہ سے ویکسین لگانے میں تاخیر نہیں کرنی چایے۔

تھروموبائسیپینیا اور کوایگولیشن ڈس آرڈر

تھروموبائسیپینیا، کسی کوایگولیشن ڈس آرڈر کا شکار افراد یا اینٹی کوایگولیشن تھراپی میں موجود افراد کو اسپٹنک V ویکسین لگاتے ہوئے احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ ان افراد میں انٹرامسکلر ویکسین لگاتے ہوئے خون جاری ہونے یا چوٹ لگنے کا خطرہ ہوسکتا ہے۔

کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد

یہ معلوم نہیں ہے کہ کمزور مدافعتی ردعمل کے حامل افراد، بشمول مدافعتی تھراپی حاصل کرنے والے افراد، ویکسین پر اسی طرح کا ردِعمل دیں جیسا کہ مضبوط مدافعتی نظام کے حامل افراد دیتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ کمزور مدافعتی نظام کے حامل افراد کا ویکسین کے حوالے سے ردِعمل بھی کمزور ہو۔ایسے افراد جنہیں شارٹ ٹرم امیونو سپریسیو ادویات دی گئی ہوں وہ ادویات کا استعمال مکمل ہونے کے بعد بھی 28 دن انتظار کریں۔
طویل عرصے سے مدافعتی نظام کی کمزوری کا شکار افراد بھی یہ ویکسین لگوا سکتے ہیں تاہم ان میں اس ویکسین کی افادیت کم ہوسکتی ہے۔
جن افراد کے اعضا کی پیوند کاری ہوئی ہو وہ پیوندکاری کے 3 ماہ بعد ویکسین لگواسکتے ہیں
جن افراد کی کیمو تھراپی ہوئی ہو وہ کیمو تھراپی کے 28 دن بعد ویکسین لگوا سکتے ہیں۔

تحفظ کا دورانیہ اور اس کی سطح
اب تک تحفظ کے دورانیے کا تعین نہیں ہوسکا ہے۔

کین سائنو (AD5-nCOV):

چینی فوج اور تیانجن میں قائم کین سائنو بائیو لاجکس کی تیار کردہ کورونا ویکسین AD5-nCOV کا تجارتی نام کونویڈیسیا ہے۔ ایک خوراک والی یہ ویکسین بھی وائرل ویکٹر ویکسین ہے۔ ویکسین کے ٹرائل کے حوالے سے فروری 2021ء میں سامنے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق درمیانے درجے کی علامات سے بچانے میں اس کی افادیت 65.7 فیصد ہے جبکہ شدید بیماری سے بچانے میں اس کی افادیت 91 فیصد ہے۔
اس کے فیز 3 ٹرائل ارجنٹینا، چلی، میکسیکو، پاکستان، روس اور سعودی عرب میں ہوئے جن میں 2020ء کے اواخر تک 40 ہزار لوگ شریک ہوئے۔

کن افراد کو کین سائنو ویکسین لگوانی چاہیے

18 سال اور اس سے زائد عمر کے افراد۔

وہ افراد جنہیں موٹاپا، دل کے امراض، سانس کی بیماریاں اور ذیابطیس سمیت ایسی بیماریاں ہوں جو کورونا کا خطرہ بڑھادیتی ہوں ان کے لیے ویکسینیشن تجویز کی جاتی ہے۔
حاملہ اور بچوں کو دودھ پلانے والی خواتین۔

کن افراد کو کین سائنو ویکسین نہیں لگوانی چاہیے

وہ افراد جنہیں ویکسین لگوانے کے وقت بخار ہو (ایسے افراد بیماری کے بہتر ہونے بعد ویکسین لگواسکتے ہیں)۔
وہ مریض جن میں کورونا وائرس ایکٹو ہو۔
جن افراد میں کورونا کی شدت نہ ہو وہ آئسولیشن کا عرصہ گزار کر ویکسین لگوا سکتے ہیں۔
جن افراد میں کورونا کی شدت زیادہ ہو وہ خطرے سے باہر آکر ویکسین لگوا سکتے ہیں۔
ایسے افراد جنہیں شارٹ ٹرم امیونو سپریسیو ادویات دی گئی ہوں وہ ادویات کا استعمال مکمل ہونے کے بعد بھی 28 دن انتظار کریں۔
طویل عرصے سے مدافعتی نظام کی کمزوری کا شکار افراد بھی یہ ویکسین لگوا سکتے ہیں تاہم ان میں اس ویکسین کی افادیت کم ہوسکتی ہے۔
جن افراد کے اعضا کی پیوند کاری ہوئی ہو وہ پیوندکاری کے 3 ماہ بعد ویکسین لگواسکتے ہیں
جن افراد کی کیمو تھراپی ہوئی ہو وہ کیمو تھراپی کے 28 دن بعد ویکسین لگوا سکتے ہیں۔

AstraZeneca

ایسٹرا زینیکا:

آکسفورڈ-ایسٹرا زینیکا کورونا ویکسین کا نام ویکسزرویا اور کووی شیلڈ (کوڈ نام AZD1222) ہے۔ یہ ویکسین 18 سال اور اس سے زائد عمر کے افراد کے لیے موزوں ہے۔ ایسٹرا زینیکا ویکسین میں تبدیل شدہ اڈینو وائرس موجود ہے جس میں SARS-Cov-2 کا ایک پروٹین بنانے والی جین ہوتی ہے۔ اس ویکسین میں چونکہ وائرس موجود نہیں ہے اس وجہ سے اس سے کورونا وائرس نہیں ہوتا۔
اس ویکسین کی دوسری خوراک لگنے کے دو ہفتے بعد کورونا کی علامات کے خلاف اس کی افادیت 62 فیصد رہی ہے۔
اس ویکسن سے خون کے خلیوں میں کمی کے ساتھ خون جمنے کا خطرہ بھی وابستہ ہے۔ یورپین میڈیکل ایجنسی کے مطابق 4 اپریل 2021ء تک یورپین اکنامک ایریا اور برطانیہ میں جہاں تقریباً 3 کروڑ 40 لاکھ افراد کو ویکسین لگ چکی تھی وہاں خون جمنے کے بہت ہی کم ہی کیس سامنے آئے یعنی 222 کیسز۔
تاہم نیشنل ہیلتھ سروسز کی وزارت نے اپنی ہدایات میں کہا ہے کہ یہ ویکسین 40 سال سے کم عمر افراد کو نہ لگائی جائے (ویکسین کے محفوظ ہونے کی معلومات کے فقدان کی وجہ سے) ساتھ ہی ان افراد کو بھی یہ ویکسین نہ لگائی جائے جنہیں ویکسین کے اجزا میں شامل کسی بھی چیز (جیسے پالی سوربیٹ) سے الرجی ہو، جنہیں جی آئی بلیڈنگ ڈس آرڈر ہو یا اس کی وجہ سے دورے پڑتے ہوں یا پھر جنہیں ہیپارین انڈیوسڈ تھرومبوسائٹوپینیا اور تھرومبوسس (HITT یا پھر HIT ٹائپ 2) جیسی بیماریاں ہوں۔

ویکسین کے حوالے سے ہدایات

ایسٹرا زینیکا

کن لوگوں کو ایسٹرا زینیکا ویکسین لگوانی چاہیے

40 سال سے زائد عمر کے افراد۔
ویکسن لگوانے کے اہل وہ بالغ افراد جنہیں ذیابطیس، بلند فشار خون، دل کی بیماری یا دیگر مستقل دائمی امراض ہوں۔
جن افراد میں کورونا کی شدت نہ ہو وہ آئسولیشن کا عرصہ گزار کر ویکسین لگوا سکتے ہیں۔
جن افراد میں کورونا کی شدت زیادہ ہو وہ خطرے سے باہر آکر ویکسین لگوا سکتے ہیں۔
طویل عرصے سے مدافعتی نظام کی کمزوری کا شکار افراد بھی یہ ویکسین لگوا سکتے ہیں تاہم ان میں اس ویکسین کی افادیت کم ہوسکتی ہے۔

کن افراد کو ایسٹرا زینیکا ویکسین نہیں لگوانی چاہیے

40 سال سے کم عمر افراد (ان کے حوالے سے ابھی مناسب حفاظتی ڈیٹا دستیاب نہیں ہے)۔
ویکسین تیار کرنے کے کسی بھی جزو (جیسے پالی سوربیٹ) سے شدید الرجی کا شکار ہونے والے افراد۔
مزید تحقیق کے نتائج آنے تک اس ویکسین کو 18 سال سے کم عمر افراد کے لیے تجویز نہیں کیا گیا ہے۔
وہ افراد جنہیں ایسٹرا زینیکا ویکسین کی پہلی خوراک لگنے کے بعد خون جمنے کی شکایت کا سامنا ہو۔
وہ افراد جنہیں ویکسین لگوانے کے وقت بخار ہو (ایسے افراد بیماری کے بہتر ہونے بعد ویکسین لگوا سکتے ہیں)۔
ایسے افراد جنہیں شارٹ ٹرم امیونو سپریسیو ادویات دی گئی ہوں۔ وہ ادویات کا استعمال مکمل ہونے کے بعد بھی 28 دن انتظار کریں۔
وہ افراد جنہیں جی آئی بلیڈنگ ڈس آرڈر یا دورے پڑنے کی شکایت ہو۔
جنہیں ہیپارین انڈیوسڈ تھرومبوسائٹوپینیا اور تھرومبوسس (HITT یا پھر HIT ٹائپ 2) جیسی بیماریاں رہی ہوں۔
وہ جنہیں کورونا ویکسین لگنے کے بعد پلیٹلیٹس کی کم سطح کے ساتھ خون جمنے کا سامنا ہو۔

اب آتے ہیں کسی بھی کرونا ویکسینیشن کے بعد منفی واقعات

امیونائزیشن کے بعد ہونے والے منفی واقعات (AEFI)

کونسل آف انٹرنیشنل آرگنائزیشنز آف میڈیکل سائنسز (CIOMS) کی منفی اثرات کو جانچنے کی درجہ بندی یہ ہے۔ بہت عام (10 فیصد)، عام (1 سے 10 فیصد)، غیر معمولی (0.1 سے 1 فیصد)، کم (0.01 سے 0.11 فیصد) اور بہت کم (0.01 فیصد سے کم)۔

ٹیکا لگنے کے مقام پر ہونے والے منفی اثرات

بہت عام: درد

عام: سوجن، خارش، سرخ نشانات پڑنا، انڈیوریشن

غیر معمولی: ٹیکا لگنے کے مقام پر جلنا

ٹیکا لگنے کے مقام سے دُور ہونے والے منفی اثرات

بہت عام: سر درد، تھکن

عام: میالجیا، متلی، اسہال، گٹھیا، کھانسی، سردی لگنا، خارش، بھوک میں کمی، ناک بہنا، گلے میں درد، ناک بند ہونا، پیٹ میں درد ہونا۔

منفی اثرات کی شدت

کلینیکل ٹرائل میں ان منفی اثرات کی شدت درجہ 1 (بہت کم) رہی جبکہ درجہ 3 اور اس سے اوپر کے منفی اثرات کے وقوع پذیر ہونے کی شرح 1.31 فیصد رہی۔
درجہ 3 اور اس سے اوپر کے منفی اثرات میں ٹیکا لگنے کے مقام پر درد، کھانسی، بخار، سر درد، گلے میں درد، پیٹ میں درد، چکر آنا اور غنودگی شامل ہیں۔

سنجیدہ منفی واقعات (SAE)

ویکسینیشن سے متعلق کوئی سنجیدہ منفی اثرات سامنے نہیں آئے۔
*Shared as Public Service Msg*

Tcv vaccination  from 1st to 15 February 2021
31/01/2021

Tcv vaccination from 1st to 15 February 2021

Next campaign
20/12/2020

Next campaign

Hrmp EOA
24/06/2020

Hrmp EOA

14/04/2020

*ویکسینیشن*

انجیکشن یا قطرے کی صورت میں ہوتے ہیں جومختلف امراض جیسےکے کالی کھانسی،نمونیا، پولیو،یرقان، خسرہ ، ممپس، چیچک اور تپ دق وغیرہ سے بچاؤ کیلئے لگائے جاتے ہیں ۔

♿بچوں میں ویکسین کاعمل پیدائش کے چند گھنٹوں بعد ہی شروع ہو جاتا ہے اور جب بچہ پندرہ ماہ کی عمر کو پہنچتا ہے تب تک جاری رہتا ہے۔
🔺پرانے وقتوں میں زندگی کے لئے خطرناک ثابت ہونے والی بیماریاں اب ویکسین کے آنے کے بعد سے کافی تیزی سے ختم ہوگئی ہیں۔

📯پاکستان کا EPI ویکسینیشن #شیڈول؛

مندرجہ ذیل ویکسین (حفاظتی ٹیکے)بچہ کی عمرکے مطابق باقاعدگی سے لگوانی چاہئیں:

٭بی سی جی ویکسین (ٹی بی کیلئے)پیدائش کے فوراً بعد

٭پولیوکی خوراک 0 پیدائش کے فوراً بعد

٭پولیو، ڈائیریا، ٹیٹنس،نمونیا، کالی کھانسی اور ہیپاٹائیٹس بی ویکسین چھ ہفتوں،دس ہفتوں اور چودہ ہفتوں کی عمر میں

٭خسرہ ،ممپس اور روبیلا ویکسین نوماہ اور پندرہ ماہ کی عمر میں

🕪🎤کہا سے لگوائیں؛🚶🚶🛂

یہ حفاظتی ٹیکے تمام گورنمنٹ کے ہسپتالوں میں مفت لگائے جاتے ہیں ۔
اس کے علاوہ یہ گورنمنٹ #ویکسینٹرز ہر علاقے گاوں، محلے وغیرہ میں ہر ماہ میں ایک سے دو بار وزٹ کرتے اور کٹ سٹیشن لگا کر اعلان کر کے بچوں کو مفت میں حفاظتی انجیکشن vaccineلگاتے ہیں۔آپ اپنے اپنے علاقے کے سے ربطے میں رہیں۔
اور ویکسینٹرز کی ہدایت پر عمل کریں۔

ویکسین کروانے کی #وجوہات؛

ویکسین نقصان دہ عناصر سے پاک ہوتی ہے یہ متبادل طور پر استعمال کی جاتی ہے اور اس لئے لگوائی جاتی ہے تا کہ بیماری کی وجہ سے ہونے والے نقصان کو روکا جا سکے۔حفاظتی ٹیکے بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرتے ہیں اور ان امراض کو روکتے ہیں۔ ایک دفعہ اینٹی باڈیز خون میں داخل ہو جائیں تو جسم کے لئے بیماریوں کے خلاف لڑنا بہت آسان ہو جاتا ہے۔ اس طرح بیماری کی روک تھام آسانی سے کی جاسکتی ہے۔
جب بچہ کو ویکسین کے ذریعے تحفظ فراہم کیا جاتا ہے تو یہ پیدا ہونے والی ہلکی علامات مدافعتی ردعمل کا سبب ہوتا ہے ۔

حفاظتی ٹیکا لگنے کے بعد کی #علامات؛

اگر بچہ کو ویکسین لگوائی جائے تو چند دن تک مندرجہ ذیل علامات ظاہر ہوتی ہیں:

٭انجیکشن کی جگہ درد، سوجن اور سرخی
٭ہلکابخار
٭تھکاوٹ
٭جوڑوں اور پٹھوں میں درد
٭لرزہ طاری ہونا
٭سردرد

یہ علامات ہلکی ہوتی ہیں اور مختصر مدت میں خود ہی ختم ہو جاتی ہیں۔

تشخیص وعلاج

ان علامات کی تشخیص اور علاج کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ اس کی علامات چند دن کے اندر خود ہی دور ہو جاتی ہیں۔

Address

B.h.u Chappar, Nakrali Road Rawalpindi

UC TRAYA R.101

Opening Hours

Monday 08:00 - 14:00
Tuesday 08:00 - 14:00
Wednesday 08:00 - 14:00
Thursday 08:00 - 14:00
Friday 08:00 - 12:00
Saturday 08:00 - 14:00

Telephone

03121591172

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Epi vaccination uc trahia posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

  • Want your practice to be the top-listed Clinic?

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram