
20/06/2025
محترمہ مریم نواز صاحبہ!خدارا یہ ظلم نہ کریں
میں ایک ڈاکٹر ہوں۔ میں نے شہباز شریف صاحب کے دورِ حکومت میں "موبائل ہیلتھ یونٹ" جیسے بلند و بانگ دعوؤں والے منصوبے میں بطور میڈیکل آفیسر ہی نہیں، بلکہ ڈسٹرکٹ مینیجر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔ دو سال تک میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، اپنے قدموں سے ان گلیوں اور دیہات کی خاک چھانی، اور اپنی پیشہ ورانہ عزت کو لوگوں کی بےحسی اور طنز کا نشانہ بنتے دیکھا۔
یقین جانیے، جب ایک باعزت ڈاکٹر، ایک تربیت یافتہ ایل ایچ وی، اور پورا میڈیکل عملہ دیہاتوں میں مریض چیک کرنے کے لیے خود چل کر جاتا ہے، تو لوگوں کے چہروں پر شکرگزاری نہیں، بلکہ حیرت، مذاق اور تفریح کا جذبہ نظر آتا ہے۔ لوگ نہ ہمیں سنجیدہ لیتے ہیں، نہ اپنی بیماریوں کو۔ وہ صرف ہمیں "دیکھنے" آتے ہیں، جیسے کوئی تماشہ ہو۔ ہم اپنی عزت نفس، قابلیت اور وقت لے کر ان کی دہلیز پر پہنچتے ہیں، اور بدلے میں ہمیں طنز، بےاعتنائی اور ہنسی مذاق ملتا ہے۔
جس مریض کو واقعی تکلیف ہو، وہ خود چل کر قریبی ہسپتال جاتا ہے۔ اصل مریض کبھی گھر پر انتظار نہیں کرتا۔ اور جب ہم وہاں پہنچیں، تو ہمیں اس بات پر بھی طعنے سننے کو ملیں کہ "دوائیاں توپل ساتھ لائے نہیں!" — گویا ہم ان کے تماشے کے لیے آئے ہیں، نہ کہ علاج کے لیے۔
اب تو حد ہو گئی ہے محترمہ!
لو جی، مارکیٹ میں آ رہے ہیں "پھیری والے ڈاکٹرز!"
جیسے سبزی والے، کلفی بیچنے والے، سپرے بیچنے والے گلی گلی پھر رہے ہوتے ہیں — اب انہی کے ساتھ ہمارے مسیحا، ڈاکٹرز، بھی کیری ڈبوں میں گھمائے جائیں گے، تاکہ سیاسی رہنماؤں کو فوٹو سیشن کا مواد مل سکے!
ہسپتالوں میں پہلے ہی عملہ کم ہے، دوائیاں ناپید ہیں، اور سہولیات کا فقدان ہے۔ اب بجائے ان مسائل کو حل کرنے کے، آپ عملے کو کیری ڈبوں میں بٹھا کر ایم پی اے، ایم این اے کے علاقوں میں گلی گلی گھمائیں گی؟
یہ منصوبہ عوام کی خدمت نہیں بلکہ سیاسی تشہیر ہے، جس میں ایک بار پھر ڈاکٹروں کی عزت نفس کو مجروح کیا جا رہا ہے۔
سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ اس منصوبے سے سیاست دانوں کا محکمہ صحت پر غیر ضروری اثر و رسوخ بڑھ جائے گا۔ تجربہ یہ بتاتا ہے کہ اکثر سیاستدان ان موبائل یونٹس کو اپنے ڈیروں پر بلا کر وہاں کیمپ لگواتے ہیں، تاکہ ان کے سیاسی اثرات قائم ہوں اور ووٹ بنک بڑھے — نہ کہ مریضوں کا علاج ہو۔
محترمہ! آپ کا یہ منصوبہ زمینی حقیقت میں مکمل طور پر ناکام ہونے جا رہا ہے۔ یہ نہ صرف قیمتی وسائل کا ضیاع ہے، بلکہ ڈاکٹرز اور میڈیکل عملے کی عزت پر بھی کاری ضرب ہے۔ ہم مسیحا ہیں، مریضوں کو عزت سے ہسپتال میں دیکھنے والے ہیں — نہ کہ سڑکوں پر دوائیاں بیچنے والے!
عین ممکن ہے کہ پچھلی حکومتوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے بے روزگار ڈاکٹرز اور دیگر طبی عملہ وقتی طور پر نوکریاں قبول کر لے، لیکن یقین کیجئے، یہ ان کے وقار اور عزتِ نفس کے ساتھ کھلواڑ ہے۔
خدا کا واسطہ ہے!
ڈاکٹرز کو پھیری والے نہ بنائیں۔ جیسے دیہاتوں میں سپرے بیچنے والے، کھلونے والے اور قلفی والے پھرتے ہیں — ڈاکٹرز کو اس صف میں لا کر ان کا مذاق نہ بنائیں۔
اگر ہم سے کوئی غلطی، کوئی کوتاہی ہوئی ہے، اگر کوئی ایسا گناہ سرزد ہوا ہے تو ہم دل سے معافی مانگتے ہیں!
ہم سیاستدان نہیں، ہم تو اس قوم کے خدمت گار ہیں۔
اگر آپ کو حقیقت جاننی ہے تو موبائل ہیلتھ یونٹس کے پورے سسٹم کا شفاف آڈٹ کروائیں اور عوام کے سامنے رپورٹ شائع کروائیں۔ آپ یقین کریں، وہ صرف ایک سیاسی مذاق تھا — ایک کاغذی منصوبہ، جس میں سچائی کی رمق تک نہ تھی۔
ہم خدمت کے لیے ہمیشہ تیار ہیں، مگر عزت کے ساتھ، وقار کے ساتھ، علم کے تقدس کے ساتھ۔
ہسپتال کے دروازے پر، نہ کہ گلی کوچوں میں تماشا بن کر۔
خدارا! اس منصوبے پر نظرثانی کیجیے، اس قوم کی صحت، ڈاکٹروں کی عزت اور اداروں کی خودمختاری کو سیاست کی نذر مت کیجیے۔
والسلام کہ ضلع
ایک درد مند ڈاکٹر محمد کاشف خان
(جو اپنی قابلیت، اپنی شناخت، اور اپنی عزت کو اشتہار نہیں بنانا چاہتا)م
Government of the punjab
Govt of Punjab
Health & Population Department