19/01/2026
زیادہ تر لوگ دل اور معدے کو الگ الگ سمجھتے ہیں، مگر حقیقت میں دونوں ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوتے ہیں۔جب معدہ درست کام نہ کرے تو اس کا اثر صرف ہاضمے تک محدود نہیں رہتا بلکہ دل بھی متاثر ہونے لگتا ہے۔معدے میں تیزابیت، گیس یا بھاری پن دل کی دھڑکن کو بے ترتیب محسوس کرا سکتا ہے۔اسی لیے بعض اوقات سینے میں بوجھ یا گھبراہٹ دل کا نہیں بلکہ معدے کا پیغام ہوتی ہے۔معدہ اور دل ایک ہی اعصابی راستے سے جڑے ہوتے ہیں، جسے جسم توازن کے لیے استعمال کرتا ہے۔جب معدہ دباؤ میں ہو تو اعصاب دل کو بھی غلط سگنل بھیجنے لگتے ہیں۔اسی وجہ سے بدہضمی کے دوران دل کی دھڑکن تیز یا بے چین محسوس ہو سکتی ہے۔یہ تعلق ان کو زیادہ متاثر کرتا ہے جو افراد جلدی کھاتے یا ضرورت سے زیادہ کھانا کھا لیتے ہوں۔کن کو خاص احتیاط کرنی چاہیے وہ لوگ جو گیس اور سینے کی گھبراہٹ کو صرف دل کا مسئلہ سمجھ کر چھوڑ دیتے ہوں۔مزاج کے لحاظ سے معدے کی گرمی دل میں بے چینی اور تیزی پیدا کر سکتی ہے۔بہترین وقت سنبھلنے کا وہ ہے جب کھانے کے فوراً بعد سینے میں بوجھ یا گھبراہٹ محسوس ہو۔ہلکی غذا، آہستہ کھانا اور کھانے کے بعد فوراً لیٹنے سے پرہیز اس رشتے کو متوازن رکھتا ہے۔جب معدہ سکون میں ہو تو دل کی دھڑکن بھی قدرتی رفتار پر آ جاتی ہے۔اکثر غیر ضروری دل کی پریشانی اصل میں معدے کی خرابی کا عکس ہوتی ہے۔دل کی حفاظت صرف دواؤں سے نہیں بلکہ ہاضمے کی درستگی سے بھی جڑی ہوتی ہے۔جو شخص اس گہرے رشتے کو سمجھ لیتا ہے وہ بہت سی غلط فہمیوں سے بچ جاتا ہے۔